مضامین بشیر (جلد 1) — Page 40
مضامین بشیر ۴۰ بات کا اہل نہیں کہ اس کی روایت قبول کی جاوے مگر یونہی ایک مجمل اعتراض کا میں کیا جواب دے سکتا ہوں۔سوائے اس کے کہ میں یہ کہوں کہ میں نے جن راویوں کو ان کی روایت کا اہل پایا ہے صرف انہی کی روایت کو لیا ہے۔روایت کے لحاظ سے عموماً یہ دیکھا جاتا ہے کہ آیا (۱) را وی جھوٹ بولنے سے متہم تو نہیں (۲) اس کے حافظہ میں تو کوئی قابل اعتراض نقص نہیں (۳) وہ سمجھ کا ایسا ناقص تو نہیں کہ بات کا مطلب ہی نہ سمجھ سکے گو یہ ضروری نہیں کہ وہ زیادہ فقیہہ ہو (۴) وہ مبالغہ کرنے یا خلاصہ نکال کر روایت کرنے یا بات کے مفہوم کو لے کر اپنے الفاظ میں آزادی کے ساتھ بیان کر دینے کا عا دی تو نہیں (۵) اس خاص روایت میں جس کا وہ راوی ہے اسے کوئی خاص غرض تو نہیں (۶) وہ ایسا مجہول الحال تو نہیں کہ ہمیں اس کے صادق و کاذب ، حافظ و غیر حا فظ ہونے کا کوئی پتہ ہی نہ ہو۔وغیرہ ذالک اور جہاں تک میر اعلم اور طاقت ہے میں نے ان تمام باتوں کو اپنے راویوں کی چھان بین میں على قدر مراتب ملحوظ رکھا ہے۔واللہ اعلم۔اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ میرے سامنے کوئی مثال نہیں ہے۔دوسرا حصہ اس اعتراض کا یہ ہے کہ سیرۃ المہدی میں بعض ایسی روایات آگئی ہیں جن میں کوئی را وی چھٹا ہوا معلوم ہوتا ہے کیونکہ بعض اوقات را وی ایسی باتیں بیان کرتا ہے جس کا علم اس کے لئے براہ راست ممکن نہیں تھا۔پس ضرور اس نے کسی اور سے سن کر یا کسی جگہ سے پڑھ کر یہ روایت بیان کی ہوگی اور چونکہ اس درمیانی راوی کا علم نہیں دیا گیا اس لئے روایت قابل وثوق نہیں سمجھی جاسکتی۔میں اس اعتراض کی معقولیت کو اصولاً تسلیم کرتا ہوں۔اس قسم کی روایات اگر کوئی ہیں تو وہ واقعی روایت کے اعلیٰ پایہ سے گری ہوئی ہیں لیکن ساتھ ہی میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اس کمزوری کی وجہ سے ایسی روایات کو کلیۂ متروک بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بسا اوقات اس قسم کی روایات سے نہایت مفید اور صحیح معلومات میسر آجاتے ہیں دراصل اصول روایت کے لحاظ سے کسی روایت کے کمزور ہونے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ روایت فی الواقع غلط بھی ہے بلکہ بالکل ممکن ہے کہ ایسی روایت بالکل صحیح اور قابل اعتماد ہو۔مثلاً فرض کرو کہ میں نے ایک بات سنی اور کسی معتبر آدمی سے سنی لیکن کچھ عرصہ کے بعد مجھے وہ بات تو یا د رہی لیکن راوی کا نام ذہن سے بالکل نکل گیا۔اب جو میں وہ روایت بیان کروں گا تو بغیر اس راوی کا نام بتانے کے کروں گا اور اصول روایت کی رو سے میری یہ روایت کمزور سمجھی جائے گی لیکن دراصل اگر میرے حافظہ اور ہم نے غلطی نہیں کی تو وہ بالکل صحیح اور درست ہوگی بلکہ بعید نہیں کہ اپنی صحت میں وہ کئی ان دوسری روایتوں سے بھی بڑھ کر ہو جو اصول روایت کے لحاظ سے صحیح قرار دی جاتی ہیں۔مگر بایں ہمہ اصول روایت کے ترازو میں وہ ہلکی ہی اترے گی اس طرح عملاً بہت سی باتوں میں