مضامین بشیر (جلد 1) — Page 458
مضامین بشیر ۴۵۸ مشروط نہیں تھی اور مرزا فضل احمد صاحب واقعی عاق ہو گئے تھے اور جن لوگوں کے تعلق کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیوٹی قرار دیا ہے ان میں مرز افضل احمد صاحب بھی شامل ہیں تو میں محض مولوی صاحب موصوف کے حلفیہ بیان پر جو مندرجہ بالا الفاظ میں بلا کمی و بیشی شائع کیا جانا ضروری ہوگا۔انہیں بلا حیل و حجت یکصد روپیہ بطور انعام پیش کر دوں گا آئیندہ کے لئے اور اس معاملہ میں جناب مولوی صاحب کے اس بیان کو دیانتداری پر مبنی قرار دے کر بحوالہ خدا کر دوں گا۔والله على ما اقول شهيد۔خلاف دیانت فعل یہ وہ معین مطالبہ تھا جو میں نے مرزا فضل احمد صاحب کے جنازہ کی بحث میں جناب مولوی محمد علی صاحب سے کیا تھا۔اس کے جواب میں اہل پیغام کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہار مؤرخہ ۲ مئی ۱۸۹۱ء کے ذکر کو ترک کر کے حالانکہ جناب مولوی محمد علی صاحب نے اسی پر اپنے بیان کی بنیاد رکھی تھی اور لازماً وہی میری جوابی جرح کی بنیا د تھا۔سیرت المہدی کی ایک روایت کا سہارا ڈھونڈنا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے شائع کردہ اشتہار کے ذکر کو یوں ترک کر جانا کہ گویا اس کا اس بحث سے کوئی تعلق ہی نہیں ، ایک ایسا خلاف دیانت فعل ہے جس کی مثال غالبا مذہبی مناظرات کے میدان میں بہت کم ملتی ہو گی۔ناظرین ملاحظہ فرمائیں کہ مولوی محمد علی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اشتہار مورخہ ۲ مئی ۱۸۹۱ء کا حوالہ دے کر وہ اس کی عبارت کا ایک حصہ درج کر کے ایک بحث اٹھاتے ہیں اور بڑی گرمی کے ساتھ ہم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اس اشتہار کے ماتحت مرز افضل احمد صاحب کو عاق کر دیا ہوا تھا اور ان کے تعلق کو دیوٹی قرار دیا تھا تو پھر آپ ان کا جنازہ کس طرح پڑھ سکتے تھے یعنی بالفاظ دیگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مرزا افضل احمد صاحب کے جنازہ سے اس لئے احتراز نہیں فرمایا تھا کہ وہ غیر احمدی تھے بلکہ اس لئے احتراز کیا تھا کہ وہ عاق شدہ تھے اور ان سے تعلق رکھنا د یوٹی کا فعل تھا اور یہ سارا استدلال جناب مولوی محمد علی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہا ر ۲ مئی ۱۸۹۱ء کی بناء پر اور اس کی عبارت نقل کر کے کیا تھا لیکن اب جب مولوی صاحب پر یہ جرح ہوئی کہ اشتہار مذکور کی عبارت غیر مشروط نہیں تھی بلکہ اگر کے لفظ کے ساتھ مشروط تھی اور یہ کہ مرزا فضل احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مطالبہ پورا کر کے اپنے آپ کو عاق ہونے سے بچا لیا تھا تو کمال سادگی