مضامین بشیر (جلد 1) — Page 457
۴۵۷ مضامین بشیر موعود علیہ السلام کی خدمت میں بھیجوا دیا۔اس کے سوا مرز افضل احمد صاحب سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کوئی معین اور مخصوص مطالبہ نہیں تھا جو اشتہار مذکور میں کیا گیا ہو۔اسی لئے میں نے اپنے رسالہ میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مرزا افضل احمد صاحب کے متعلق جو شرط عاق ہونے سے بچنے کے لئے لگائی تھی اور اس شرط کو اگر‘ کے صاف اور غیر مشکوک لفظ کے ساتھ مشروط کیا تھا ، وہ مرزا فضل احمد صاحب نے بلا توقف پوری کر دی تھی اور اس طرح وہ عاق ہونے سے بچ گئے تھے اور میرا جناب مولوی محمد علی صاحب پر یہ اعتراض تھا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عاق ہونے کے معاملہ کو اپنے اشتہار مورخہ ۲ مئی ۱۸۹۱ء میں اگر “ کے لفظ کے ساتھ مشروط کیا تھا اور صراحتہ لکھا تھا کہ اگر مرز افضل احمد صاحب نے اپنی بیوی کو طلاق نہ دی تو وہ عاق ہوں گے تو مولوی محمد علی صاحب کا اپنے رسالہ میں اشتہار مذکور کے حوالہ کے ساتھ اگر کی صریح اور واضح شرط کے ذکر کو ترک کر کے یہ لکھنا کہ مرزا فضل احمد صاحب فی الواقعہ اس اشتہار کے ماتحت عاق ہو گئے تھے ایک صریح مغالطہ دہی کا فعل ہے جس کی کسی دیانتدار آدمی سے توقع نہیں کی جاسکتی اور میں نے جناب مولوی محمد علی صاحب سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اگر وہ اپنی تحریر کو دیانت داری پر مبنی قرار دیتے ہیں اور انہوں نے اس معاملہ میں فی الواقعہ کوئی نا جائز تصرف نہیں کیا تو پھر وہ مرد میدان بن کر اس کا اعلان فرمائیں کہ اشتہار مذکور کی عبارت "اگر" کے لفظ کے ساتھ مشروط نہیں تھی بلکہ بلا شرط تھی اور یہ کہ مرزا فضل احمد صاحب واقعی اس اشتہار کے ماتحت عاق ہو گئے تھے۔چنانچہ میرے الفاظ جو میں نے رسالہ ” مسئلہ جنازہ کی حقیقت میں لکھے تھے یہ ہیں۔" میں تحریوں اور چیلنجوں کا عادی نہیں مگر میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ میں جناب مولوی محمد علی صاحب سے یہ عرض کروں کہ اگر وہ اشتہا ر ۲ مئی ۱۸۹۱ء کو اور اپنے رسالہ ” ثالث بننے کی دعوت کے صفحات ۱۰ وا ا کو اور میری اس تشریح کو جو اوپر گزری ہے معہ ان حوالہ جات کے جن کا میرے اس نوٹ میں ذکر ہے دوبارہ مطالعہ فرما کر یہ حلفیہ بیان شائع فرما دیں کہ میں نے ان تینوں تحریروں کو معہ متعلقہ حوالہ جات کے دوبارہ غور سے دیکھ لیا ہے اور پھر بھی میری کامل دیانت داری کے ساتھ یہی رائے ہے کہ جو کچھ میں نے رسالہ ” ثالث بننے کی دعوت میں مرزا فضل احمد صاحب کے بارے میں لکھا ہے اور وہ پوری طرح درست اور بالکل صحیح ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر مندرجہ اشتہار ۲ مئی ۱۸۹۱ء بلا شرط تھی اور اگر کے لفظ کے ساتھ