مضامین بشیر (جلد 1) — Page 456
۴۵۶ مضامین بشیر رسالہ ”مسئلہ جنازہ کی حقیقت کی تصنیف کے وقت مجھے بھولی ہوئی نہیں تھی بلکہ میرے ذہن میں تحضر تھی اور مجھے اچھی طرح یاد ہے جس پر میں حلف اٹھانے کو تیار ہوں کہ میں نے رسالہ ”مسئلہ جنازہ کی حقیقت“ کی تصنیف کے وقت جبکہ میں مرزا افضل احمد صاحب کے جنازہ کی بحث لکھ رہا تھا اس روایت کو نکال کر دیکھا بھی تھا مگر چونکہ میرے خیال میں اس کی وجہ سے حقیقتہ جنازہ کی بحث پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔اس لئے میں نے اسے قابل اعتناء خیال نہیں کیا اور یہ خیال کر کے خاموش ہو رہا کہ اگر کسی نے اس سوال کو ایسے رنگ میں اٹھایا جو نا واقف لوگوں کی غلط فہمی کا باعث ہوا تو پھر اس کی تشریح کر دی جائے گی۔پس ایڈیٹر صاحب ” پیغام اور ان کے ساتھیوں کی اس جھوٹی خوشی کا تو جو ان کے مضمون کے بین السطور سے ظاہر ہے اسی قدر جواب کافی ہے جو میں نے اس جگہ حلفاً عرض کر دیا ہے۔وليس وراء الله للمر مذهب مرزا افضل احمد صاحب کے متعلق مولوی محمد علی صاحب سے حلفیہ بیان کا مطالبہ باقی رہا اصل معاملہ سو مجھے افسوس ہے کہ مضمون نگار صاحب نے اس معاملہ میں دانستہ یا نادانستہ غلط بحث کر کے پبلک کو غلط راستے پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔بات یہ ہے جیسا کہ میں ابھی تشریح کروں گا ایڈیٹر صاحب ”پیغام صلح نے اس معاملہ میں یا تو بالکل غور ہی نہیں کیا اور محض سطح الخیالی سے کام لیتے ہوئے یونہی بلا سوچے سمجھے ایک بات کہہ دی ہے اور یا انہوں نے ایک ظاہر میں نظر آنے والے تضاد کو آڑ بنا کر نا واقف لوگوں کو دانستہ مغالطہ میں ڈالنا چاہا ہے۔حقیقت یہ ہے جیسا کہ میں نے اپنے رسالہ میں تفصیل اور تشریح کے ساتھ لکھا ہے، وہ بات جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے اشتہار مورخہ ۲ مئی ۱۸۹۱ ء میں مرزا فضل احمد صاحب سے معین صورت میں مطالبہ کیا تھا اور اس مخصوص مطالبہ کے پورا ہونے یا نہ ہونے پر ان کے عاق ہونے یا نہ ہونے کے سوال کو منحصر قرار دیا تھا وہ صرف یہ تھی کہ تم اپنی بیوی مسماة عزت بی بی بنت مرزاعلی شیر کو جو بے دینی کے رستہ پر چل کر محمدی بیگم کے نکاح کے فتنہ میں مخالفانہ حصہ لے رہی تھی طلاق دے دو اور اگر تم نے اسے طلاق نہ دی تو تم عاق ہو گے اور جیسا کہ ہم قطعی طور پر ثابت کر چکے ہیں کہ مرز افضل احمد صاحب مرحوم نے اس مطالبہ کو بلا توقف پورا کر دیا تھا اور بلا شرط طلاق نامہ لکھ کر حضرت مسیح