مضامین بشیر (جلد 1) — Page 455
۴۵۵ مضامین بشیر مرحوم کے جنازہ کے متعلق درج کیا گیا ہے۔اس مضمون میں ایڈیٹر صاحب پیغام صلح ( کیونکہ غالبا یہ مضمون ایڈیٹر صاحب کا ہی ہے ) مجھ پر یہ اعتراض فرماتے ہیں کہ تم نے رسالہ ”مسئلہ جنازہ کی حقیقت میں تو جناب مولوی محمد علی صاحب پر یہ جرح کی ہے کہ مرزا فضل احمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمانبردار تھے اور آپ کے ساتھ تعلق رکھتے تھے اور آپ کے فرمانے پر انہوں نے فوراً اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی وغیرہ وغیرہ مگر یہ کہ باوجود اس کے چونکہ وہ احمدی نہیں تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کا جنازہ نہیں پڑھا لیکن اس کے مقابلہ پر اپنی تصنیف ” سیرۃ المہدی“ میں تم نے یہ روایت بیان کی ہے کہ گومرزا فضل احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مطالبہ پر اپنی پہلی بیوی کو طلاق لکھ دی تھی اور اس کے بعد وہ جب کبھی باہر سے آتے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ہی ٹھہرا کرتے تھے مگر بعد ازیں وہ پھر آہستہ آہستہ اپنی دوسری بیوی کے پھسلانے سے دوسروں کے ساتھ جا ملے۔گویا ایڈیٹر صاحب ”پیغام صلح اس خاکسار پر یہ اعتراض فرماتے ہیں کہ جو جرح میں نے مرزا فضل احمد صاحب کے جنازہ کی بحث میں جناب مولوی محمد علی صاحب پر کی ہے وہ درست نہیں کیونکہ بہر حال سیرۃ المہدی کی روایت کے مطابق مرزا افضل احمد صاحب اپنی وفات سے قبل مخالف رشتہ داروں کے ساتھ جا ملے تھے اور جب وہ غیروں کے ساتھ جا ملے تھے تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ان کے جنازہ سے احتر از فرمانا ان کے اس مخالفانہ رویہ کی وجہ سے سمجھا جائے گا نہ کہ محض غیر احمدی ہونے کی وجہ سے۔"سیرۃ المہدی“ کی روایت پیش نظر تھی یہ وہ اعتراض ہے جو پیغام صلح، مورخہ ۳۰ مئی ۱۹۱۴ء میں میرے خلاف کیا گیا ہے اور ایڈیٹر صاحب’ پیغام صلح ،، مجھ سے اس اعتراض کے جواب کا مطالبہ فرماتے ہیں۔چونکہ یہ اعتراض ایک طرح سے نیا رنگ رکھتا ہے اور نا واقف لوگوں کو اس کی وجہ سے غلط نہی پیدا ہوسکتی ہے اس لئے میں ضروری خیال کرتا ہوں کہ مختصر طور پر اس کا جواب عرض کروں۔سب سے پہلے تو میں یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ اگر ایڈیٹر صاحب ”پیغام صلح کا یہ خیال ہے جیسا کہ ان کے مضمون کے بین السطور سے واضح ہے کہ گویا رسالہ مسئلہ جنازہ کی حقیقت“ کی تصنیف کے وقت مجھے ” سیرۃ المہدی“ کی محولہ بالا روایت یاد نہیں تھی اور اس طرح میں بظاہر دو متضاد باتیں لکھ گیا تو یہ خیال ہرگز درست نہیں ہے کیونکہ حق یہ ہے والله على ما اقول شهید کہ سیرۃ المہدی“ کی جس روایت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ