مضامین بشیر (جلد 1) — Page 39
۳۹ مضامین بشیر روایت یوں شروع ہوتی ہے کہ خاکسار عرض کرتا ہے۔ہونا تو یوں چاہیئے تھا کہ عرض کرتا ہے خاکسار۔“ اس استہزاء کے جواب میں سلام عرض کرتا ہوں۔ایک طرف مضمون کے تقدس کو دیکھئے اور دوسری طرف اس تمسخر کو ! مکرم ڈاکٹر صاحب حیرت کا مقام یہ ہے نہ کہ وہ جس پر آپ محو حیرت ہونے لگتے ہیں۔افسوس ! 66 چوتھا اصولی اعتراض جو جناب ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون کے شروع میں بیان کیا ہے۔یہ ہے کہ سیرۃ المہدی حصہ اوّل میں راویوں کے ” صادق و کا ذب” عادل وثقہ ہونے کے متعلق کوئی احتیاط نہیں برتی گئی اور نہ راویوں کے حالات لکھے ہیں کہ ان کی اہلیت کا پتہ چل سکے اور دوسرے یہ کہ بعض روایتوں میں کوئی راوی چھٹا ہوا معلوم ہوتا ہے۔گویا کتاب کے اندر مرسل روائتیں درج ہیں جو پا یہ اعتبار سے گری ہوئی ہیں اور پھر اس کے بعد یہ مذاق اڑایا ہے کہ احادیث کی ظاہری نقل تو کی گئی ہے۔لیکن محدثین کی تنقید اور باریک بینیوں“ کا نام ونشان نہیں اور روایات کے جمع کرنے میں بھونڈا پن اختیار کیا گیا ہے۔الغرض ڈاکٹر صاحب کے نزدیک سیرۃ المہدی’ ایک گڑ بڑ مجموعہ ہے۔“ اور مصنف یعنی خاکسار نے ”مفت میں اپنا مذاق اڑوایا ہے۔چونکہ ڈاکٹر صاحب نے اس جگہ مثالیں نہیں دیں ، اس لئے میں حیران ہوں کہ کیا جواب دوں۔ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ راویوں کے صادق و کا ذب ہونے کا کوئی پتہ نہیں“ میں عرض کرتا ہوں کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کو کھول کر ملا حظہ فرمائیے۔ان میں بھی راویوں کے صادق و کا ذب ہونے کا کوئی پتہ نہیں چلتا۔کم از کم مجھے بخاری اور مسلم کے اندر بلکہ کسی تاریخ و سیرۃ کی کتاب کے اندر یہ بات نظر نہیں آتی کہ راویوں کے صادق و کا ذب ثقہ وعدم ثقہ ہونے کے متعلق بیان درج ہو بلکہ اس قسم کی بحثوں کے لئے الگ کتابیں ہوتی ہیں جو اسماء الرجال کی کتابیں کہلاتی ہیں اور جن میں مختلف راویوں کے حالات درج ہوتے ہیں۔جن سے ان کے صادق و کاذب ، عادل و غیر عادل، حافظ و غیر حافظ ہونے کا پتہ چلتا ہے اور انہی کتب کی بناء پر لوگ روایت کے لحاظ سے احادیث کے صحیح یا غیر صحیح مضبوط یا مشتبہ ہونے کے متعلق بحثیں کرتے ہیں مگر میرے خلاف ڈاکٹر صاحب کو نا معلوم کیا نا راضگی ہے کہ وہ اس بات میں بھی مجھے مجرم قرار دے رہے ہیں کہ میں نے کیوں سیرۃ المہدی کے اندر ہی اس کے راویوں کے حالات درج نہیں کئے۔حق یہ تھا کہ اگر ان کو سیرۃ المہدی کا کوئی راوی مشتبہ یا قابل اعتراض نظر آتا تھا تو وہ اس کا نام لے کر بیان فرماتے اور پھر میرا فرض تھا کہ یا تو میں اس راوی کا ثقہ و عادل ہونا ثابت کرتا اور یا اس بات کا اعتراف کرتا کہ ڈاکٹر صاحب کا اعتراض درست ہے اور وہ راوی واقعی اس