مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 37 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 37

۳۷ مضامین بشیر میں واقع حیرت میں ہوں کہ اس قسم کی عبارتوں کے نقل کرنے کا نام ڈاکٹر صاحب نے کس اصول کی بناء پر استدلال واستنباط رکھا ہے اور دنیا کی وہ کونسی لغت ہے جو اقتباس درج کرنے کو استدلال واستنباط کے نام سے یاد کرتی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب کے قلم سے یہ الفاظ جلدی میں نکل گئے ہیں اور اگر وہ اپنے مضمون کی نظر ثانی فرما ئیں تو وہ یقیناً ان الفاظ کو خارج کر دینے کا فیصلہ فرمائیں گے۔پھر ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی نہیں غور کیا کہ میرے جس فعل پر ان کو اعتراض ہے وہ ایسا فعل ہے کہ جسے میں نے اپنی کتاب کے شروع میں اپنے فرائض میں سے ایک فرض اور اپنے اغراض میں سے ایک غرض قرار دیا ہے۔چنانچہ میرے الفاظ یہ ہیں : - ” میرا ارادہ ہے والله المُوَقِّقُ کہ جمع کروں اس کتاب میں تمام وہ ضروری باتیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے متعلق خود تحریر فرمائی ہیں اور وہ جو دوسرے لوگوں نے لکھی ہیں۔نیز جمع کروں تمام وہ زبانی روایات۔۔۔الخ ، اس عبارت سے پتہ لگتا ہے کہ میں نے اپنے سامنے صرف زبانی روایات کے جمع کرنے کا کام نہیں رکھا بلکہ تمام متعلقہ تحریرات کے تلاش کرنے اور ایک جگہ جمع کر دینے کو بھی اپنی اغراض میں سے ایک غرض قرار دیا ہے۔اندریں حالات میں نہیں سمجھ سکا کہ ڈاکٹر صاحب نے میرے عبارتوں کے نقل کرنے کے فعل کو کس اصول کے ماتحت جرم قرار دیا ہے۔مکرم ڈاکٹر صاحب مجھے آپ معاف فرما ئیں مگر میں پھر یہی کہوں گا کہ گو میں آپ کی نیت پر حملہ نہیں کرتا لیکن آپ کی تنقید کسی طرح بھی عدل وانصاف پر مبنی نہیں سمجھی جاسکتی۔تیسرا اصولی اعتراض جو ڈاکٹر صاحب موصوف نے سیرۃ المہدی حصہ اول پر کیا ہے وہ ان کے اپنے الفاظ میں یہ ہے کہ : - روایات کے جمع کرنے میں احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل اتاری ہے۔یہاں تک کہ اردو تحریر میں اردو کے صرف ونحو کونظر انداز کر کے عربی صرف ونحو کے مطابق طرز بیان اختیار کیا ہے مگر جہاں راوی خود مصنف صاحب ہوتے ہیں وہاں عربی چولا اتر جاتا ہے۔“ یہ اعتراض بھی گذشتہ اعتراض کی طرح ایک ایسا اعتراض ہے جسے مضمون کی علمی تنقید سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر ڈاکٹر صاحب پسند فرماتے تو اپنے علمی مضمون کی شان کو کم کرنے کے بغیر اس اعتراض کو چھوڑ سکتے تھے۔: مطبوعه الفضل ۲۵ مئی ۱۹۲۶ء