مضامین بشیر (جلد 1) — Page 424
مضامین بشیر ۴۲۴ اور تمہیں اس کا خیال پیدا ہو چکا ہے اور بھوک چمک چکی ہے۔اس لئے اگر اسے چھوڑ کر نماز کی طرف اٹھو گے تو لازمہ بشریت کے ماتحت طبیعت میں انتشار رہے گا۔اس لئے پہلے کھانا کھا کر اپنی فوری اور قریب کی ضرورت پوری کر لو اور اس کے بعد نماز پڑھو۔یہ ایک بہت چھوٹی سی بات ہے مگر غور کرو تو اس سے شریعت اسلامی کی گہری حکمت و فلسفہ پر کتنی عظیم الشان روشنی پڑتی ہے اور یہ ایک منفر د قسم کا حکم نہیں بلکہ قرآن وحدیث ایسے حکموں سے بھرے پڑے ہیں مگر عقلمند انسان کے لئے ایک اصولی مثال ہی کافی ہو سکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی سے مثال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں اس کی مثال دیکھنی چا ہو تو میں ایک ایسی مثال پیش کرتا ہوں جو خو دمولوی محمد علی صاحب کی آنکھوں کے سامنے گزری ہے اور وہ اس کے زندہ گواہ ہیں۔مولوی صاحب کو معلوم ہے کہ ۱۹۰۷ء میں ہمارا چھوٹا بھائی یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چھوٹا لڑکا مبارک احمد بیمار ہو گیا اور اسی بیماری میں بے چارہ اس جہان فانی سے رخصت ہوا۔مبارک احمد کی بیماری میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کی تیمار داری اور علاج معالجہ میں اس قدر شغف تھا کہ گویا آپ نے اپنی ساری توجہ اسی میں جما رکھی تھی اور ان ایام میں تصنیف وغیرہ کا سلسلہ بھی عملاً بند ہو گیا تھا۔یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو مولوی صاحب کی آنکھوں کے سامنے گزرا ہے اور جس سے وہ کبھی انکار نہیں کر سکتے مگر مولوی صاحب بتا ئیں کہ یہ کیا بات ہے کہ ایک مٹی کے پتلے کے لئے جس نے آج بھی مرنا تھا۔اور کل بھی مرنا تھا“ خدا تعالیٰ کے بزرگ مسیح نے اس قدر شغف دکھایا کہ گویا اس عرصہ میں قلمی جہاد کا سلسلہ بھی عملاً رُ کا رہا۔کیا جہا د افضل تھا یا کہ مبارک احمد کی تیمار داری؟ یقیناً جہاد ہی افضل تھا مگر ایک طرف تو مبارک احمد شعائر اللہ میں سے تھا اور دوسری طرف فطرت انسانی کے مطابق جو خدا ہی کی صفت رحمت کا پر تو ہے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک نسبتاً چھوٹی مگر قریب کی ضرورت کو جو پریشانی کا موجب ہورہی تھی وقتی طور پر مقدم کر لیا اور بڑی ضرورت کو با جود اس کی اہمیت کے پیچھے ڈال دیا۔پس اگر جماعت احمدیہ نے اپنے محبوب امام کے لئے ایک آنے والے خطرہ کو محسوس کر کے خاص دعاؤں کا اہتمام کیا ہے تو اس پر چیں بجیں ہو کر یہ واویلا کرنا کہ اسلام اور حق وصداقت کے خیالات کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے ، ایک نہایت ہی ادنیٰ قسم کی سطح الخیالی ہے جس کی کم از کم ایک