مضامین بشیر (جلد 1) — Page 423
۴۲۳ مضامین بشیر میں تو حضرت خلیفۃ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی قیادت میں احمدیت کو کوئی خاص ترقی حاصل نہیں ہوئی۔تو اس پر میری یہ گزارش ہوگی کہ مکرم مولوی صاحب ہماری دعا کی اپیل بھی صرف ان لوگوں سے ہی ہے جو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی امامت کو جماعت اور احمدیت کی غیر معمولی ترقی کا باعث خیال کرتے ہیں۔آپ سے ہر گز نہیں۔جب ہم آپ کو دعا کے لئے کہنے جائیں گے اس وقت آپ بیشک اعتراض کریں۔قریب کی چیز سے فطرتِ انسانی کا زیادہ متاثر ہونا تیسری بات جو مولوی صاحب نے نظر انداز کی ہے ، یہ ہے کہ مولوی صاحب نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت کو ایسا بنایا ہے کہ وہ بسا اوقات ایک قریب کی محدود چیز سے خواہ وہ نسبتا کم اہم ہو۔ایک دور کی وسیع ضررت کی نسبت خواہ وہ نسبتاً زیادہ اہم ہو۔زیادہ متاثر ہوتا ہے اور انسانی فطرت کے اسی خاصہ کو اسلام نے بھی جو خالق فطرت کا بھیجا ہوا مذ ہب ہے بڑی حد تک تسلیم کیا ہے اور اس پر متعد دشرعی احکام کی بنیا د رکھی ہے۔یہ مضمون بہت گہرا اور وسیع ہے مگر میں ایک سادہ سی مثال دے کر اسے واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ :- إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلوةُ وَحَضَرَ العَشَاءُ فَابُدَوا بِالعَشَاءِ ۲۹ یعنی اگر تمہارے سامنے شام کا کھانا آجائے اور اس وقت ساتھ ہی نماز کی اقامت بھی ہو جائے تو تمہیں چاہیئے کہ پہلے کھانا کھالو اور اس سے فارغ ہونے کے بعد نماز پڑھو۔“ اب ظاہر ہے کہ پیٹ میں بھرنے والا کھانا ایک بہت ادنی سی مادی چیز ہے۔جسے نماز جیسی اعلیٰ اور ارفع روحانی چیز سے جو روحانی کھانوں کی بھی گویا سرتاج ہے کوئی دور کی بھی نسبت نہیں مگر باوجود اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر مادی کھانے کو روحانی کھانے پر مقدم کرتے ہیں اور حکم فرماتے ہیں کہ پہلے مادی کھانا کھاؤ اور اس کے بعد روحانی کھانے کا خیال کرو۔جس میں حکمت یہ ہے کہ مادی کھانا گوادنی ہے مگر وہ ایک فوری اور قریب کی ضرورت ہے جس کی اشتہا کھانے کے سامنے آجانے سے اور بھی تیز ہو جاتی ہے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خدائی علم کے ماتحت فطرت انسانی کی گہرائیوں سے آگاہ تھے۔یہ ارشاد فرمایا کہ چونکہ مادی کھانا تمہارے سامنے آچکا ہے