مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 422 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 422

مضامین بشیر ۴۲۲ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں آپ کے لئے کتنی دفعہ دعا کروں۔یعنی اپنی دعاؤں کا کتنا حصہ آپ لئے وقف کروں۔کیا ایک چہارم حصہ آپ کے لئے وقف کر دوں ؟ اس پر آپ نے اُسے آہستہ آہستہ اوپر اٹھا کر بالآخر اس خیال پر قائم فرما دیا کہ اگر تم اپنی ساری دعائیں ہی میرے لئے وقف کر دو تو یہ سب سے بہتر ہے۔حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ایک بشر تھے جن کے ساتھ موت فوت اسی طرح لگی ہوئی تھی۔جس طرح کسی اور انسان کے ساتھ اور بظاہر آپ کی ذات کے متعلق دعا کرنا اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کی دعا سے جدا اور مغائر تھا مگر چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسلام کے مبانی تھے۔اور آپ کا وجود باجود اسلام کی عمارت کے لئے ایک زبر دست ستون تھا۔(گو با وجود اس کے اللہ تعالیٰ آپ کے متعلق آفَائِنُ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمُ ۲۸ کے الفاظ فرماتا ہے ) اس لئے اپنی دعا کے اندر ہی اسلام کی دعا کو بھی شامل قرار دیا۔اس سے یہ اصول مستنبط ہوتا ہے کہ بعض شخصیتیں ایسی ہو سکتی ہیں اور ہوتی ہیں کہ ان کے لئے دعا کرنے میں ان کی جماعت کی ترقی اور ان کے مشن کی کامیابی کی دعا خود بخود آ جاتی ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے وجود اس مثیل کے لحاظ سے ایک لیول پر ہیں اور ایک ہی حیثیت رکھتے ہیں۔حاشا و کلاً ونعوذ بالله من ان نقول الا الحق بلکه صرف ایک اصولی مثال بتا کر یہ جتانا مقصود ہے کہ علی قدر مراتب امام کا وجود شخصی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ جماعتی حیثیت رکھتا ہے اور امام کے لئے دعا کرنے میں خود بخود علی قدر مراتب امام کے مشن اور اس کی جماعت کی ترقی کی دعا بھی آجاتی ہے۔حضرت امیر المومنین اید و اللہ کے لئے دُعائیں کرنے کی غرض علاوہ ازیں مولوی صاحب نے یہ بھی نہیں سوچا کہ ہم جو حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے لئے دعائیں کرتے ہیں تو کیا اس لئے کرتے ہیں کہ آپ کے زندہ رہنے سے ہمیں کوئی جائیداد مل جائے گی یا حکومت میں حصہ پانے کا رستہ کھل جائے گا یا کوئی اور دنیوی فائدہ حاصل ہوگا ؟ بلکہ ہم صرف اس لئے دعائیں کرتے ہیں کہ آپ کی قیادت میں اسلام اور احمدیت کی غیر معمولی ترقی ہورہی ہے اور طبعا ہماری یہ آرزو ہے کہ اللہ تعالیٰ اس غیر معمولی ترقی کے عہد کو ہمارے لئے لمبا کر دے۔پس اس جہت سے بھی حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے لئے دعا کرنا دراصل اسلام اور احمدیت کی ترقی کی دعا کے مترادف ہے اور اگر مولوی صاحب یہ فرمائیں کہ ہماری نظر