مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 421 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 421

۴۲۱ مضامین بشیر ہیں جن میں آپ کا زمانہ وفات قریب دکھایا گیا ہے آپ کے لئے خاص دعائیں کی جائیں۔اس سے یہ نتیجہ کیسے نکل آیا کہ کسی اور غرض کے لئے دعائیں نہ کی جائیں۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کے متعلق خاص دعاؤں کے وقف کرنے کے الفاظ سے بھی وہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا جو مولوی صاحب نے نکالا ہے کیونکہ یہ بہر حال دعائیں نماز کی مسنون دعاؤں کے بعد اور ان سے بچے ہوئے وقت میں ہوتی تھیں اور مولوی صاحب جانتے ہیں کہ نماز کی دعائیں اسلام کی ترقی اور قرب الہی کے حصول کے لئے کس طرح وقف ہیں۔حتی کہ ان سے بڑھ کر کوئی اور دعا اس غرض کے لئے ذہن میں نہیں آسکتی۔پس اگر ہماری طرف سے یہ تحریک کی گئی کہ ان ایام میں اپنی خاص دعاؤں کو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کے لئے وقف کرو تو ہر عقل مند انسان سمجھ سکتا ہے کہ اس سے یہی مراد ہے کہ اسلام اور حق وصداقت کی ترقی اور درود وغیرہ کی دعاؤں کے بعد جو بہر حال لازمی اور مقدم ہیں باقی ماندہ زائد دعاؤں میں ان دعاؤں کو موجودہ ایام میں خصوصیت کی جگہ دواور یہ ایک بالکل جائز مطالبہ ہے جو خاص حالات میں جماعت سے کیا جا سکتا ہے۔مولوی صاحب نے شاید یہ سمجھا ہے کہ جب جماعت سے یہ کہا گیا ہے کہ ان ایام میں حضرت خلیفہ اصیح ایدہ اللہ کے لئے اپنی خاص دعا ئیں وقف کرو تو اس سے مراد یہ ہے کہ بس اب نماز روزہ چھوڑ کر اور نماز کی مسنون دعاؤں کو ترک کر کے صرف حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کے لئے دعاؤں میں لگ جاؤ اور کوئی دوسری دعا زبان پر نہ لاؤ۔بریں عقل و دانش بیاید گریست امام کا وجود جماعتی حیثیت رکھتا ہے۔علاوہ ازیں مولوی صاحب نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ جو تحر یک حضرت خلیفہ المسیح ایدہ اللہ کے بارے میں خاص دعاؤں کی کی گئی ہے۔وہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی ذات کے لئے نہیں ہے بلکہ حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی امام جماعت احمد یہ ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے متعلق ہے اور ظاہر ہے کہ کسی ایسے امام اور لیڈر کے بارے میں دُعا کرنا جس کی اما مت اور لیڈرشپ میں کوئی جماعت یا قوم غیر معمولی طور پر ترقی کر رہی ہوا اور خدا نے اس کے زمانہ کو اپنی خاص برکات سے نوازا ہو۔ایک انفرادی اور ذاتی دعا نہیں سمجھی جاسکتی بلکہ یہ ایک جماعتی دعا ہے۔کیونکہ ایسے شخص کی دعا کے ساتھ جماعت کی ترقی کی دعا لازم و ملزوم کے طور پر ہے۔مولوی صاحب یقیناً اس حدیث سے ناواقف نہیں ہوں گے کہ جب ایک دفعہ کسی صحابی نے