مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 398 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 398

مضامین بشیر ۳۹۸ ڈاکٹروں کے مشورہ کے کبھی کوئی پر ہیز کیا۔آخر کا ر بنکل نے حملہ کیا اور چند روز بیمار رہ کر داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔بیماری کے آخری تین روز سخت تکلیف رہی۔مگر ہمت ایسی تھی کہ جس دن شام کو فوت ہونا تھا اور ڈاکٹر جواب دے چکے تھے اس دن کی دو پہر کا کھانا بھی اپنے اہل وعیال کے ساتھ مل کر دستر خوان پر کھایا اور وفات سے صرف پندرہ منٹ قبل بعض ضروری کاغذات پر دستخط کئے۔نزع کی حالت میں بڑے لڑکے عزیز عبدالرؤف خان نے روتے ہوئے کہا آپ ہمیں کس پر چھوڑ کر جا رہے ہیں جس پر خان صاحب نے فوراً جواب دیا خدا پر۔اپنی اولاد کے حق میں مرحوم ایک بہت اچھے باپ تھے اور ہمیشہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر ان کی بہبودی کے لئے کوشاں رہتے تھے۔اور دنیوی بہبودی کے ساتھ ساتھ اولاد کی دینی بہبود کا بھی خیال رہتا تھا۔چنانچہ جب دو بڑے لڑکے بالغ ہو گئے تو خود انہیں ساتھ لے کر حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی بیعت کروائی۔اور قادیان جاتے رہنے کی بھی تاکید کرتے رہتے تھے۔مرحوم نے اپنے پیچھے پانچ لڑکے اور دولڑکیاں چھوڑی ہیں۔دو بڑے لڑکے سرکاری ملازمت میں آچکے ہیں۔یعنی عزیز عبد الرؤف خان بی۔اے نائب تحصیلدار ہیں۔اور عزیز عبد الحمید خان بی۔اے تحصیلدار ہیں اور دو چھوٹے لڑکے تعلیم پارہے ہیں۔اور منجھلا لڑکا ملازمت کی تلاش میں ہے۔ایک لڑکی شادی شدہ ہے۔اور عزیز سجا د سرور نیازی بی۔اے ڈائرکٹر آل انڈیا ریڈیو لاہور کے عقد میں ہے۔اور دُوسری لڑکی کی شادی عنقریب عزیز مسٹر عبدالکریم نیازی ایم۔اے انکم ٹیکس افسر کے ساتھ ہونے والی ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کا حافظ و ناصر ہو۔اور دینی اور دنیوی ترقیوں سے بہرہ ور کرے۔آمین ( مطبوعه الفضل ۱۲ اکتوبر ۱۹۴۰ء)