مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 397 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 397

۳۹۷ مضامین بشیر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات پر جب جماعت میں اختلاف ظاہر ہوا تو خان صاحب نے فوراً حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ہاتھ پر بیعت کرلی اور گو شروع شروع میں بعض رشتہ داروں کی مخالفت کی وجہ سے کچھ دب دب کر رہے لیکن اخلاص میں فرق نہیں آیا۔چنانچہ جب ای۔اے۔سی کا امتحان دیا تو حضرت خلیفتہ اسی الثانی کی خدمت میں چند نب بھجوا کر دعا کی درخواست کی اور عرض کیا کہ ان نبوں پر دعا فرمائیں تاکہ میں ان سے اپنے پرچے لکھوں۔چنانچہ حضرت خلیفتہ المسیح کی دعاؤں سے خدا نے کامیابی عطا فرمائی۔اور اس کا وہ ہمیشہ فخر کے ساتھ ذکر کیا کرتے تھے۔جب سال رواں کے شروع میں قبلہ حضرت مولوی غلام حسن خان صاحب نے حضرت خلیفہ امسیح الثانی کے ہاتھ پر بیعت کی تو خان صاحب مرحوم اس پر بہت خوش ہوئے اور پے در پے دو خطوں میں میرے پاس اپنی خوشی کا اظہار کیا۔چنانچہ ایک خط میں لکھتے ہیں :- آغا جان کی بیعت کا میں نے ۲۵ جنوری ۱۹۴۰ء کے الفضل میں پڑھ لیا تھا۔مجھے پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔میں نے خود حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کی بیعت ۱۹۱۴ء میں اس بیت کو مدنظر رکھ کر کی تھی کہ : - دور او پسرش چوں شود تمام بکام یادگار بینم میں نے محمد علی صاحب کی بیعت کبھی نہیں کی اور نہ مجھے کبھی اس کی خواہش ہوئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان سے مجھے ہمیشہ محبت رہی ہے اور لاہور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے کسی ممبر کو جب وہ میرے گھر پر آیا موجب برکت سمجھتا رہا ہوں۔اور جلسہ پر بھی گاہے بگا ہے قادیان آتا رہا ہوں۔اس دفعہ بھی میری خواہش تھی لیکن بوجہ ضعف و بیماری نہ آسکا۔دعا کریں کہ آیندہ توفیق عطا ہو۔آغا جان صاحب نے میری بیعت“ والے مضمون میں جو۲ فروری ۱۹۴۰ء کے الفضل میں چھپا ہے دو الہامات حضرت مسیح موعود سے نئی توجیہہ کی ہے لیکن ان کا خیال اس الہام کی طرف نہیں گیا کہ ”خدا مسلمانوں کے دوفریقوں میں سے ایک کے ساتھ ہوگا اور ہر طرح خیریت ہے۔“ خان صاحب مرحوم نے مرض کا ربنکل سے ۳۰ ستمبر ۱۹۴۰ء کی شام کو اپنے وطن میانوالی میں بھمر - خداد و مسلمان فریق میں سے ایک کا ہوگا۔تذکرہ صفحہ ۶۰۴ طبع ۲۰۰۴ء ۶۵ سال وفات پائی۔کئی سال سے ذیا بیطس کی تکلیف تھی۔مگر کبھی اس کی پروانہیں کی اور نہ ہی باوجود