مضامین بشیر (جلد 1) — Page 33
۳۳ مضامین بشیر حاصل ہوگئی۔میں نے روایات کے جمع کرنے کا وعدہ کیا تھا اور وہ وعدہ میں نے پورا کیا استدلال واستنباط کی اُمید میں نے نہیں دلائی تھی بلکہ اسے کسی آئندہ وقت پر ملتوی کیا تھا لیکن بایں ہمہ کہیں کہیں ضرورت کو دیکھ کر یہ کام بھی ساتھ ساتھ کرتا گیا ہوں۔گویا میرا جرم یہ ہے کہ جس قدر بوجھ اٹھانے کی ذمہ داری میں نے لی تھی اس سے کچھ زیادہ بوجھ اٹھایا ہے اور میرے اس جرم پر ڈاکٹر صاحب غضبناک ہورہے ہیں ! فرماتے ہیں :- ایک طرف یہ سب بحثیں دیکھوا اور دوسری طرف اس کتاب کے متعلق اس بیان کو دیکھو کہ استدلال کا وقت بعد میں آئے گا تو حیرت ہو جاتی ہے۔“ مکرم ڈاکٹر صاحب ! بیشک آپ کو حیرت ہوتی ہوگی کیونکہ آپ کے مضمون سے ظاہر ہے کہ آپ کے سینہ میں قدر شناس دل نہیں ہے ورنہ اگر کوئی قدر دان ہوتا تو بجائے اعتراض کرنے کے شاکر ہوتا۔یہ تو میں نے صرف اصولی جواب دیا ہے ورنہ حقیقی جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ استدلال واستنباط کے متعلق میں نے جو کچھ سیرۃ المہدی میں لکھا ہے اس کا وہ مطلب ہرگز نہیں ہے جو ڈاکٹر صاحب سمجھے ہیں اور میں حیران ہوں کہ ڈاکٹر صاحب نے کس طرح میری عبارت سے یہ مطلب نکال لیا ہے حالانکہ اس کا سیاق و سباق صریح طور پر اس کے خلاف ہے، اگر ڈاکٹر صاحب جلد بازی سے کام نہ لیتے اور میری جو عبارت ان کی آنکھوں میں کھٹکی ہے اس سے کچھ آگے بھی نظر ڈال لیتے تو میں یقین کرتا ہوں کہ ان کی تسلی ہو جاتی مگر غضب تو یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے دل میں اعتراض کرنے کا شوق ایسا غلبہ پائے ہوئے ہے کہ جو نبی ان کو کوئی بات قابل گرفت نظر آتی ہے وہ اسے لے دوڑتے ہیں۔اور اس بات کی تکلیف گوارہ نہیں کرتے کہ اس کے آگے پیچھے بھی نظر ڈال لیں۔میں ڈاکٹر صاحب کے اپنے الفاظ میں یہ تو نہیں کہنا چاہتا کہ اس طرح وہ مفت میں اپنا مذاق اڑواتے ہیں۔مگر یہ ضرور کہوں گا کہ یہ طریق انصاف سے بہت بعید ہے۔میری جس عبارت کو لے کر ڈاکٹر صاحب نے اعتراض کیا ہے وہ یہ ہے :- ” میرے نزدیک اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق جتنی بھی روایتیں جمع ہوسکیں ان کو ایک جگہ جمع کر کے محفوظ کر لیا جاوے۔ترتیب اور استنباط واستدلال کا کام بعد میں ہوتا رہے گا۔کیونکہ وہ ہر وقت ہو سکتا ہے مگر جمع روایات کا کام اگر اب نہ ہوا تو پھر نہ ہو سکے گا۔اس عبارت کو لے کر ڈاکٹر صاحب یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس میں ترتیب واستدلالات کے