مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 376 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 376

مضامین بشیر کسی مضمون کے متعلق جو جو اعتراض یا اشکال مخالفین کی طرف سے امکانی طور پر پیدا ہوسکتا ہے اسے حضرت مولوی صاحب کی ڈور بین آنکھ فوراً دیکھ لیتی تھی اور بیک وقت ہر علم اور مرض کی عینک مضمون کی پاتال تک پہونچنے کے لئے تیار رہتی تھی۔مولوی صاحب کی یہ غیر معمولی ذہانت بعض اوقات وہ صورت پیدا کر دیتی تھی جسے عرف عام میں تیر کا نشانہ سے پرے جا لگنا کہتے ہیں کیونکہ مولوی صاحب کا دماغ بعض اوقات اپنی تیز پرواز میں ضرورت سے زیادہ آگے نکل جاتا تھا لیکن جو لوگ مولوی صاحب کی اس جودت طبع سے واقف تھے وہ اُن کے مشوروں میں اس پہلو کو مد نظر رکھ لیتے تھے۔مرحوم ایک نہایت درجہ متقی اور خدا ترس بزرگ تھے۔اور ہر امر میں قال اللہ اور قــال الرسول کا خیال غالب رہتا تھا اور ان کی یہ پوری کوشش ہوتی تھی کہ اپنی زندگی کو ہر رنگ میں اسلام اور احمدیت کی تعلیم کے مطابق بنائیں۔فرائض کے علاوہ نوافل کی طرف بھی از حد توجہ تھی اور قرآن شریف کے مطالعہ میں بہت شغف تھا اور اس جہادا کبر کے ساتھ ساتھ اسلام اور احمدیت کے لئے غیرت کا جذ بہ بھی بہت نمایاں تھا۔یہ اسی غیرت کا نتیجہ تھا کہ مخالفین سلسلہ کے متعلق مرحوم کی رائے بہت سخت تھی۔اسی طرح غیر مبایعین کے خلاف بھی مولوی صاحب مرحوم کو غیر معمولی جوش تھا۔بعض اوقات منکرین خلافت کے لیڈروں کا ذکر آتا تو بڑے غصہ کے ساتھ فرماتے کہ یہ لوگ احمدیت کی تعلیم اور احمدیت کی روح کو مسخ کرتے جا رہے ہیں اور اس عمارت کو نقب لگا رکھی ہے جس کے سایہ میں انہوں نے پرورش پائی ہے۔سلسلہ کی خاطر مالی قربانی کا یہ حال تھا کہ باوجود مالی تنگی اور کثیر العیالی کے اپنے ترکہ میں سے صد را انجمن احمدیہ کے حق میں چہارم حصہ کی وصیت کر رکھی تھی۔تواضع کا مادہ بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔اللہ تعالیٰ نے علم وفضل میں اعلیٰ مرتبہ عطا کیا مگر چھوٹے سے چھوٹے آدمی کے سامنے بھی انکساری اور فروتنی کے ساتھ پیش آتے تھے۔البتہ چونکہ طبیعت بہت حساس تھی اور کسی قدر اعصابی کمزوری بھی تھی ، اس لئے بعض اوقات خلاف مزاج بات پر چمک بھی اُٹھتے تھے۔لیکن یہ اہر فوراً دب کر رفق اور تواضع کا رنگ اختیار کر لیتی تھی۔اور زیادہ دیر تک دل میں رنجش نہیں رکھتے تھے بلکہ رنجش کے بعد فوراً ہی نیکی اور احسان کا طریق اختیار کر کے حالات کا رخ بدل دیتے تھے۔میرے ساتھ تو ان کا سلوک ہمیشہ ہی از حد محبت کا رہا بلکہ استاد ہونے کے باوجود وہ ہمیشہ خادموں کی طرح انکساری برتتے تھے۔جس سے مجھے ان کے سامنے شرمندہ ہونا پڑتا تھا مگر جن لوگون کے ساتھ کبھی رنجش ہو جاتی تھی۔ان کے متعلق بھی ضرور جلدی ہی ازالہ کا طریق اختیار فرماتے تھے اور دوسرے فریق کے ذرا سے تغیر پر بھی طبیعت بالکل صاف ہو جاتی تھی۔