مضامین بشیر (جلد 1) — Page 31
۳۱ مضامین بشیر فراخ دلی سے کام لینا چاہیئے اور حتی الوسع کسی روایت کو محض لا تعلق سمجھے جانے کی بناء پر رد نہیں کر دینا چاہیئے۔ہاں بے شک یہ احتیاط ضروری ہے کہ کمزور اور غلط روایات درج نہ ہوں مگر جو روایت اصول روایت وداریت کی رو سے صحیح قرار پائے اور وہ ہو بھی حضرت مسیح موعود کے متعلق تو خواہ وہ آپ کی۔سیرۃ کے لحاظ سے بظاہر لاتعلق یا غیر ضروری ہی نظر آوے اسے ضرور درج کر دینا چاہیئے۔بہر حال میں نے روایات کے انتخاب میں وسعت سے کام لیا ہے کیونکہ میرے نزدیک سیرۃ کا میدان ایسا وسیع ہے کہ بہت ہی کم ایسی روایات ہو سکتی ہیں جو من کل الوجوہ غیر متعلق قرار دی جاسکیں۔اس جگہ تفصیلات کی بحث نہیں۔کیونکہ ڈاکٹر صاحب نے صرف اصولی اعتراض اٹھایا ہے۔اور مثالیں نہیں دیں ورنہ میں مثالیں دے کر بتا تا کہ سیرۃ المہدی کی وہ روایات جو بظاہر غیر متعلق نظر آتی ہیں دراصل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک گہرا تعلق رکھتی ہیں لیکن اگر اب بھی ڈاکٹر صاحب کی تسلی نہ ہو تو میں ایک سہل علاج ڈاکٹر صاحب کے لئے پیش کرتا ہوں اور وہ یہ کہ میں سیرت ابن ہشام اور اسی قسم کی دیگر معروف کتب سیر سے چند باتیں ایسی نکال کر پیش کروں گا جن کا بظا ہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا اور پھر جو تعلق ڈاکٹر صاحب موصوف ان باتوں کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سے ثابت کریں گے۔میں انشاء اللہ اتنا ہی بلکہ اس سے بڑھ کر تعلق سیرۃ المہدی کی روایات کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت سے ثابت کر دوں گا جن کو ڈاکٹر صاحب غیر متعلق قرار دیں گے۔خلاصہ کلام یہ کہ کیا بلحاظ اس کے کہ سیرت کے مفہوم کو بہت وسعت حاصل ہے۔اور مورخین اس کو عملاً بہت وسیع معنوں میں لیتے رہے ہیں۔اور کیا بلحاظ اس کے کہ ہمارے دل کی یہ آرزو ہے کہ حضرت مسیح موعود کی کہی بات ضبط و تحریر میں آنے سے رہ نہ جائے اور کیا بلحاظ اس کے کہ ممکن ہے کہ آج ہمیں ایک بات لاتعلق نظر آوے مگر بعد میں آنے والے لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔اور کیا بلحاظ اس کے کہ میں نے اپنی کتاب کے شروع میں یہ بات لکھ دی تھی کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ہر قسم کی روایات اس مجموعہ میں درج کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اور کیا بلحاظ اس کے کہ میں نے خود اپنی کتاب کے دیباچہ میں یہ بھی لکھ دیا تھا کہ اس کتاب میں بعض روایات لاتعلق نظر آئیں گی لیکن استدلال و استنباط کے وقت ان کا تعلق ثابت کیا جا سکے گا۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب موصوف کو اس اعتراض کا حق حاصل نہیں تھا اور مجھے افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے سراسر تعدی کے ساتھ مجھے اپنے غیر منصفانہ اعتراض کا نشانہ بنایا ہے۔دوسرا اصولی اعتراض جو ڈاکٹر بشارت احمد صاحب نے سیرۃ المہدی کے متعلق کیا ہے وہ یہ ہے مطبوعه الفضل ۲۱ مئی ۱۹۲۶ء