مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 364 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 364

مضامین بشیر ۳۶۴ جماعت قادیان پر قیامت کا سماں جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی مسیحیت پر دُنیا کی فضاء بادلوں کی گرج اور بجلیوں کی کڑک سے گونجنے لگ گئی تھی۔اسی طرح جب خُدا کے برگزیدہ مسیح کا موعود خلیفہ مسندِ خلافت پر قدم رکھ رہا تھا تو دنیا نے پھر وہی نظارہ دیکھا۔اور احمدیت کے آسمان پر گھٹا ٹوپ بادلوں کی گرجوں نے آنے والے کا خیر مقدم کیا۔حضرت خلیفہ امسیح اول کی وفات کے وقت وہ اختلاف جو عر فا مخفی کہلاتا تھا مگر حقیقتہ اب مخفی نہیں رہا تھا ، یکدم مکھوٹ کر باہر آ گیا۔قادیان کی جماعت کو حضرت خلیفہ المسیح اول کی وفات کی خبر اس وقت ملی جبکہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب مسجد اقصیٰ میں جمعہ کی نماز پڑھا کر مسجد سے باہر آرہے تھے۔اس پر سب لوگ گھبرا کر فورا نواب محمد علی خان صاحب کی کوٹھی پر پہونچے۔جہاں حضرت خلیفہ اسیح اول اپنی بیماری کے آخری ایام میں تبدیلئی آب و ہوا کے لئے تشریف لے گئے تھے اور قادیان کی نئی آبادی کا کھلا میدان گو یا میدانِ حشر بن گیا۔بے شک حضرت خلیفہ مسیح اول کی جدائی کا غم بھی ہر مومن کے دل پر بہت بھاری تھا مگر اس دوسرے غم نے جو جماعت کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے ہر مخلص احمدی کے دل کو کھائے جار ہا تھا اس صدمہ کو سخت ہولناک بنا دیا۔جیسا کہ بتایا جا چکا ہے جمعہ کے دن سوا دو بجے کے قریب حضرت خلیفہ اسی اول کی وفات ہوئی اور دوسرے دن نماز عصر کے بعد حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ منتخب ہوئے۔گویا یہ قریباً چھپیں گھنٹہ کا وقفہ تھا جو قادیان کی جماعت پر قیامت کی طرح گزرا۔اس نظارے کو دیکھنے والے بہت سے لوگ گزر گئے اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بعد میں پیدا ہوئے یا وہ اس وقت اس قدر کم عمر تھے کہ ان کے دماغوں میں ان واقعات کا نقشہ محفوظ نہیں مگر جن لوگوں کے دلوں میں ان ایام کی یاد قائم ہے وہ اسے کبھی بھلا نہیں سکتے۔میں پھر کہتا ہوں کہ وہ دن جماعت کے لئے قیامت کا دن تھا اور میرے اس بیان میں قطعاً کوئی مبالغہ نہیں۔ایک نبی کی جماعت، تازہ بنی ہوئی جماعت بچپن کی اُٹھتی ہوئی امنگوں میں مخمور اور صداقت کی برقی طاقت سے دُنیا پر چھا جانے کے لئے بے قرار ، جس کے لئے دین سب کچھ تھا اور دنیا کچھ نہیں تھی۔وہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہی تھی کہ اگر ایک طرف اس کے پیارے امام کی نعش پڑی ہے تو دوسری طرف چند لوگ اس امام سے بھی زیادہ محبوب چیز یعنی خدا کے برگزیدہ صیح کی لائی ہوئی صداقت اور اس صداقت کی حامل جماعت کو مٹانے کے لئے اس پر حملہ آور ہیں۔یہ نظارہ نہایت درجہ صبر آزما تھا اور میں نے ان