مضامین بشیر (جلد 1) — Page 30
مضامین بشیر سکتا۔اسی طرح مثلاً آپ کی سیرۃ کی کتب میں آپ کے آباء واجداد کے حالات اور آپ کی بعثت کے وقت آپ کے ملک وقوم کی حالت کا مفصل بیان درج ہوتا ہے۔جو بادی النظر میں ایک لاتعلق بات سمجھی جاسکتی ہے۔لیکن در حقیقت آپ کی سیرت و سوانح کو پوری طرح سمجھنے کے لئے ان باتوں کا علم نہایت ضروری ہے۔الغرض سیرۃ کا مفہوم ایسا وسیع ہے کہ اس میں ایک حد مناسب تک ہر وہ بات درج کی جاسکتی ہے جو اس شخص کے ساتھ کوئی نہ کوئی تعلق رکھتی ہو ، جس کی سیرت لکھی جارہی ہے۔بعض اوقات کسی شخص کی سیرت لکھتے ہوئے اس کے معروف اقوال اور گفتگوئیں اور تقریروں کے خلاصے درج کئے جاتے ہیں۔جن کو ایک جلد باز انسان سیرۃ کے لحاظ سے زائد اور لاتعلق باتیں سمجھ سکتا ہے۔حالانکہ کسی شخص کے اقوال وغیرہ کا علم اس کی سیرۃ کے متعلق کامل بصیرت حاصل کرنے کیلئے ضروری ہوتا ہے۔پھر بعض وہ علمی نقطے اور نئی علمی تحقیقا تیں اور اصولی صداقتیں جو ایک شخص کے قلم یا منہ سے نکلی ہوں وہ بھی اس کی سیرۃ میں بیان کی جاتی ہیں تاکہ یہ اندازہ ہو سکے کہ وہ کس دل و دماغ کا انسان ہے۔اور اس کی وجہ سے دنیا کے علوم میں کیا اضافہ ہوا ہے مگر عامی لوگ ان باتوں کو سیرۃ وسوانح کے لحاظ سے غیر متعلق قرار دیتے ہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ ڈاکٹر صاحب نے سیرۃ کا مفہوم سمجھنے میں غلطی کھائی ہے اور اس کو اس کے تنگ اور محدود دائرہ میں لے کر اعتراض کی طرف قدم بڑھا دیا ہے ورنہ اگر وہ ٹھنڈے دل سے سوچتے اور سیرۃ کے اس مفہوم پر غور کرتے جو اہل سیر کے نزدیک رائج و متعارف ہے تو ان کو یہ غلطی نہ لگتی اور اسی وسیع مفہوم کو مد نظر رکھ کر میں نے سیرۃ المہدی میں ہر قسم کی روایات درج کر دی ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ایک صاحب بصیرت شخص ان میں سے کسی روایت کو زائد اور بے فائدہ قرار نہیں دے سکتا۔میں نے اس خیال سے بھی اپنے انتخاب میں وسعت سے کام لیا ہے کہ ممکن ہے اس وقت ہمیں ایک بات لاتعلق نظر آ وے لیکن بعد میں آنے والے لوگ اپنے زمانہ کے حالات کے ماتحت اس بات سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرۃ وسوانح کے متعلق مفید استدلالات کر سکیں۔جیسا کہ مثلاً ابتدائی اسلامی مورخین نے آنحضرت لے کے متعلق ہر قسم کی روایات جمع کر دیں اور گو اس وقت ان میں سے بہت سی روائتوں سے ان متقدمین نے کوئی استدلال نہیں کیا لیکن اب بعد میں آنے والوں نے اپنے زمانہ کے حالات وضروریات کے ماتحت ان روایات سے بہت علمی فائدہ اٹھایا ہے اور مخالفین کے بہت سے اعتراضات کا جواب دینے کے لئے ان سے مدد حاصل کی ہے۔اگر وہ لوگ ان روایات کو اپنے حالات کے ماتحت لاتعلق سمجھ کر چھوڑ دیتے تو ایک بڑا مفید خزانہ اسلام کا ضائع ہو جاتا۔پس ہمیں بھی بعد میں آنے والوں کا خیال رکھ کر روایات کے درج کرنے میں