مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 362 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 362

مضامین بشیر ۳۶۲ کہ اسلام نے انسانی زندگی کے ہر شعبہ کی ہر تفصیل میں دخل نہیں دیا۔اگر ایسا ہوتا تو شریعت بجائے رحمت کے زحمت بن جاتی۔اسی لئے قرآن شریف فرما تا ہے کہ : - لا تَسْتَلُوْا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ۔ك یعنی تفصیلات کے بارے میں کرید کرید کر سوال نہ کیا کرو ورنہ تمہارے لئے نا واجب تنگی اور سختی پیدا ہو جائے گی اور شریعت کی رحمت کا پہلو مکدر ہونے لگے گا۔“ پس اس جہت سے بھی آپ کا یہ سوال کہ ابتدائی تاریخ اسلام میں جھنڈے لہرانے کا ثبوت نہیں ملتا ، درست نہیں کیونکہ موجودہ زمانہ کے لباسوں اور سواریوں اور کھانوں اور مکانوں وغیرہ کا بھی تو اسلام کی ابتدائی تاریخ میں کوئی نشان نہیں پایا جاتا۔جب ان امور میں آپ نے اسلام پر قائم رہتے ہوئے زمانہ کے تغیرات کو قبول کر لیا ہے تو جھنڈے کے متعلق آپ کو اعتراض کیوں پیدا ہوتا ہے۔اگر اس زمانہ کے طریق کے مطابق جماعت کے لیئے کسی جھنڈے کی ضرورت سمجھی جائے اور اسلام کا کوئی حکم اس کے خلاف نہ ہو تو کسی عقلمند انسان کو اعتراض نہیں ہو سکتا اور اس قسم کی تفصیلات میں معیار یہی ہوتا ہے کہ اسلام کا کوئی حکم خلاف نہ ہو۔نہ یہ کہ اسلام کا کوئی حکم تائید میں بھی پایا جائے۔مگر حق یہ ہے کہ آپ کا شبہ سرے سے ہی غلط اور باطل ہے۔جھنڈوں کا نہ صرف ابتدائی اسلامی تاریخ میں بلکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ثبوت ملتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر مہم کے ساتھ جھنڈا ہوتا تھا اور جب آپ صحابہ کے کسی دستہ کو باہر روانہ کرنے لگتے تھے تو اس وقت بعض اوقات خود اپنے ہاتھ سے جھنڈا تیار کر کے دستہ کے امیر کے سپر دفرماتے تھے۔ان حقائق کے ہوتے ہوئے کسی مخلص اور واقف کا راحمدی کے دل میں جھنڈے کے متعلق شبہ یا اعتراض نہیں پیدا ہونا چاہیئے اور لطف یہ ہے کہ مسیح موعود کے متعلق خاص طور پر احادیث میں یہ پیشگوئی تھی کہ وہ اپنی فوج کے ساتھ جھنڈے لہراتا ہوا آئے گا۔اس کے معنی کچھ سہی مگر مینار کے معاملہ میں بھی تو حضرت مسیح موعود نے ایک باطنی حقیقت کو ظاہر میں پورا کیا تھا۔یہ اعتراض کہ جھنڈے کا لہرانا کانگرس یا مسلم لیگ وغیرہ کی نقل نظر آتا ہے۔اسی طرح بودا ہے جس طرح کہ سابقہ اعتراض کیونکہ اول تو آپ نے نقل کے معنی نہیں سمجھے۔اگر نقل کے یہی معنی ہیں کہ کسی دوسرے کی اچھی بات بھی نہیں لینی چاہیئے تو یہ درست نہیں اور اسلامی تعلیم كــلــمة الحكمة ضالة المومن اخذها حيث فجدها حد اس کے خلاف ہے اور اگر نقل کے یہ معنی ہیں کہ کسی کی بری بات نہ لی جائے تو یہ درست ہے۔مگر آپ نے یہ کیسے فرض کر لیا کہ جھنڈے