مضامین بشیر (جلد 1) — Page 361
مضامین بشیر غیر اسلامی طریق ہے اور کانگرس وغیرہ کی نقل کی صورت معلوم ہوتی ہے۔اس کا جواب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے مدظلہ العالی نے رقم فرما کر ارسال کیا ہے۔جو افادہ عام کے لیے درج ذیل کیا جاتا ہے۔(ایڈیٹر ) مکرمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا خط مورخہ ۲۲ شوال ۱۳۵۸ھ موصول ہوا۔افسوس ہے کہ آپ سلسلہ کے حالات سے پوری واقفیت نہیں رکھتے ورنہ جو بات آپ کے دل میں کھٹکی ہے وہ غالبا نہ کھٹکتی۔جھنڈے کے لہرانے کا فیصلہ خود حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے گذشتہ مجلس مشاورت میں فرمایا تھا۔آپ نے غالباً یہ فیصلہ نہیں پڑھا اور یا پڑھنے کے بعد بھول گئے۔بہر حال اس حال میں کہ حضرت امیر المومنین نے خود فیصلہ فرمایا تھا کسی احمدی کے دل میں جھنڈا لہرانے کی تجویز بھٹکنی نہیں چاہیئے۔جہاں تک میں اسلام کا منشاء سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ جب انسان اہم اور اصولی امور میں کسی طریق کی صداقت کا قائل ہو کر اسے اختیار کرلے تو پھر غیر اہم اور فروعی امور میں اپنی عقل کو ایک طرف رکھ کر بلا چون و چرا ہر معاملہ میں سرتسلیم خم کرتا جائے۔یہی تشریح اس آیت کی ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِى اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔! اگر ہر فروعی اور جزئی امر میں انسان یہ طریق اختیار کرنے لگے کہ پہلے میری تسلی ہونی چاہیئے۔تب میں آگے چلوں گا تو پھر مذہب کے معاملہ میں ساری امان اٹھ جاتی ہے اور ہر قدم پر ٹھوکر اور لغزش کا سامان پیدا ہونے لگتا ہے۔میں آپ کو نصیحت کروں گا کہ آپ اس طریق سے پر ہیز کریں اور اپنی طبیعت کو اس بات کا عادی بنائیں کہ جب آپ نے اسلام احمدیت اور خلافت کو اصولی طور پر علی وجہ البصیرت سچا پایا ہے تو پھر جزئی اور فروعی امور میں بالکل آنکھیں بند کر کے امنا و صدقنا کا طریق اختیار کریں۔مجھے یاد ہے کہ ایک عرصہ ہوا آپ نے اس بارہ میں بھی ایک اعتراض لکھ کر بھیجا تھا کہ حضرت امیر المومنین کی کوٹھی پر حفاظت کے لئے کتے کیوں پالے جاتے ہیں۔اب پھر اس قسم کی جزئی اور فروعی بات میں آپ کی طبیعت نے لغزش کھائی ہے۔کیا آپ نے حضرت امیر المومنین ایده اللہ تعالیٰ کی خلافت کو منجانب اللہ نہیں پایا۔تو پھر جب انہیں خلیفہ برحق مان لیا تو ایسی ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں میں رُکنا اور سوال اٹھانا مومن کی شان سے بعید ہے۔اس جواب سے پہلے ایک اور اصولی بات بھی کہنا چاہتا ہوں جسے آپ بھولے ہوئے ہیں۔وہ یہ