مضامین بشیر (جلد 1) — Page 29
مشاہدہ ہیں۔‘۵ ۲۹ مضامین بشیر میں امید کرتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب اس بات کو تسلیم کریں گے کہ ان الفاظ کے ماتحت مجھے اپنے دائرہ عمل میں ایک حد تک وسعت حاصل ہے اور دراصل منشاء بھی میرا یہی تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق جو بھی قابل ذکر بات مجھے پہنچے میں اسے درج کر دوں تا کہ لوگوں کے استمتاع کا دائرہ وسیع ہو جاوے اور کوئی بات بھی جو آپ کے متعلق قابل بیان ہو ، ذکر سے نہ رہ جائے۔کیونکہ اگر اس وقت کوئی بات ضبط تحریر میں آنے سے رہ گئی تو بعد میں وہ ہمارے ہاتھ نہیں آئے گی اور نہ بعد میں ہمارے پاس اس کی تحقیق اور جانچ پڑتال کا کوئی پختہ ذریعہ ہوگا۔مگر افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے میرے ان الفاظ کو جو میں نے اسی غرض کو مد نظر رکھ کر لکھے تھے بالکل نظر انداز کر کے خواہ نخواہ اعتراضات کی تعداد بڑھانے کے لئے میرے خلاف ایک الزام دھر دیا ہے۔چوتھا اور حقیقی جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے لفظ سیرۃ کے مفہوم پر غور نہیں کیا اور اس کے مفہوم کو ایک بہت ہی محدود دائرہ میں مقید سمجھ کر مجھے اپنے اعتراض کا نشانہ بنالیا ہے۔اگر ڈاکٹر صاحب سیرۃ کی مختلف کتب کا مطالعہ فرماویں خصوصاً جو کتب متقدمین نے سیرۃ میں لکھی ہیں۔انہیں دیکھیں تو ڈاکٹر صاحب کو معلوم ہو جائے گا کہ سیرت کا لفظ نہایت وسیع معنوں میں لیا جاتا ہے۔دراصل سیرت کی کتب میں تمام وہ روایات درج کر دی جاتی ہیں جو کسی نہ کسی طرح اس شخص سے تعلق رکھتی ہوں جس کی سیرت لکھنی مقصود ہوتی ہے۔مثلاً سیرۃ ابن ہشام آنحضرت ﷺ کے حالات میں ایک نہایت ہی مشہور اور متداول کتاب ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب نے اس کا ضرور مطالعہ کیا ہو گا۔لیکن اسے کھول کر اوّل سے آخر تک پڑھ جاویں۔اس میں سینکڑوں ایسی باتیں درج ملیں گی جن کا آنحضرت مے کے ساتھ براہ راست بلا واسطہ کوئی تعلق نہیں ہے لیکن چونکہ بالواسطہ طور پر وہ آپ کے حالات زندگی پر اور آپ کی سیرت و سوانح پر اثر ڈالتی ہیں ، اس لئے قابل مصنف نے انہیں درج کر دیا ہے۔بعض جگہ صحابہ کے حالات میں ایسی ایسی باتیں درج ہیں جن کا آنحضرت مو کی سیرت سے بظاہر کوئی بھی تعلق نہیں اور ایک عامی آدمی حیرت میں پڑ جاتا ہے کہ نہ معلوم آنحضر نہ کے حالات میں یہ روایات کیوں درج کی گئی ہیں لیکن اہل نظر و فکر ان سے بھی آپ کی سیرت وسوانح کے متعلق نہایت لطیف استدلالات کرتے ہیں۔مثلاً صحابہ کے حالات ہمیں اس بات کے متعلق رائے قائم کرنے میں بہت مدد دیتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی صحبت اور آپ کی تعلیم و تربیت نے آپ کے متبعین کی زندگیوں پر کیا اثر پیدا کیا۔یعنی ان کو آپ نے کس حالت میں پایا اور کس حالت میں چھوڑا اور یہ ایک ایسی بات ہے کہ جسے کوئی عقل مند انسان آپ کی سیرت وسوانح کے لحاظ سے لاتعلق نہیں کہہ