مضامین بشیر (جلد 1) — Page 350
مضامین بشیر ۳۵۰ امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز خود بنفس نفیس جلسہ کے ایام میں تحریک فرما چکے ہیں۔چنانچہ جلسہ سے قبل جو جمعہ آیا تھا اس کے خطبہ میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسجد اقصیٰ کے چندہ کے لئے خاص طور پر پر زور تحریک فرمائی تھی۔یہ خطبہ اخبار " الفضل‘ میں چھپ چکا ہے اور احباب خطبہ کے مضمون سے آگاہ ہو چکے ہیں۔اس کے بعد مسجد مبارک کی توسیع کے لئے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس پبلک جلسہ میں تحریک فرمائی جو مورخہ ۳ جنوری کو جلسہ کے اختتام پر منعقد ہوا تھا۔اس تقریر میں حضور نے مسجد مبارک کے لئے چندہ کے لئے ایک خاص سکیم تجویز فرمائی تھی اور وہ یہ کہ ہر کمانے والا بالغ مرد مسجد مبارک کے لئے کم از کم ایک آنہ فی کس کے حساب سے اور زیادہ سے زیادہ دس روپے فی کس کے حساب سے چندہ دے۔یعنی کسی کمانے والے مرد سے ایک آنہ سے کم چندہ وصول نہیں کیا جائے گا۔اور نہ ہی دس روپے سے زیادہ چندہ قبول کیا جائے گا تا کہ کوئی فرد جماعت اس چندہ سے باہر نہ رہ جائے اور نہ ہی کسی پر اس چندہ کا کوئی غیر معمولی بوجھ پڑے۔جن بچوں اور عورتوں کی اپنی کوئی آمد نہیں ہے ان کے لئے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ وہ کم از کم ایک پیسہ فی کس کے حساب سے چندہ دیں اور اگر وہ نہ دے سکتے ہوں تو ان کی طرف سے بچوں کے والدین یا عورتوں کے خاوند چندہ ادا کریں۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی ہر دو تحریکات کے پیش نظر اعلان کیا جاتا ہے کہ تمام مقامی جماعتوں کے کارکن اپنی اپنی جگہ ان تحریکات کو پہونچا کر جلد تر چندہ کی وصولی کا انتظام کریں اور جملہ چندہ جو جمع ہو وہ محاسب صدر انجمن احمد یہ قادیان کے نام بھجوایا جائے اور ساتھ ہی یہ تصریح کردی جائے کہ یہ چندہ مسجد اقصیٰ یا مسجد مبارک کے لئے ہے۔یہ کام خاص کوشش کے ساتھ ایک دو ماہ کے اندر اندر ہو جانا چاہیئے تا کہ ہم اپنے امام کی آواز پر جلد تر لبیک کہنے والے قرار دیے جائیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے بیش از پیش انعامات کے وارث ہوں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کے ساتھ ہوا اور اپنی رضا کے رستوں پر چلنے کی توفیق دے۔آمین ( مطبوعه الفضل ۱۱ جنوری ۱۹۳۹ء)