مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 347 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 347

۳۴۷ مضامین بشیر ہے کہ یہ لفظ ازل سے ان ہی بزرگ ہستیوں کے لئے وضع ہوئے تھے اور جیسا کہ سب دوست جانتے ہیں ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق خاتم النبیین کے یہ معنی کئے ہیں کہ آپ نے نبوت کے کمالات کو اس درجہ کمال اور اتم صورت میں اپنے اندر جمع کیا ہے کہ نہ صرف یہ کہ کوئی گزشتہ نبی اس مقام کو نہیں پہونچا اور سب نبو تیں آپ کی نبوت کے سایہ کے نیچے ہیں بلکہ آئندہ بھی کوئی شخص نبوت کے فیض سے فیضیاب نہیں ہو سکتا۔جب تک کہ وہ یہ نور آپ کی وساطت سے حاصل نہ کرے اور اپنے متعلق ” خاتم الاولیاء کے لفظ کی تشریح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کی ہے کہ آپ کے اندر ولایت کے کمالات اپنے معراج کو پہونچ گئے ہیں اور آئندہ کوئی شخص ولایت کے رتبہ کو آپ کی اتباع کے بغیر نہیں پا سکتا۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں :- ,, وَإِنِّي عَلى مَقَامِ لْخَتُمِ مِنَ الْوِلَايَةِ كَمَا كَانَ سَيِّدِي الْمُصْطَفَى عَلى مَقَامِ الْخَتَمِ مِنَ النُّبُوَّةِ وَإِنَّهُ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَأَنَا خَاتَمُ الْأَوْلِيَاءِ لَا وَلِيُّ بَعْدِي إِلَّا الَّذِى هُوَ مِنِّى وَعَلَى عَهْدِى۔وَإِنَّ قَدَمِي هذِهِ عَلَى مَنَارَةٍ خُتِمَ عَلَيْهَا كُلُّ رِفْعَةٍ۔یعنی میں ولائت کے میدان میں ختم کے مقام پر فائز ہوں جس طرح میرا سردار محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبوت کے میدان میں ختم کے مقام پر فائز تھا کیونکہ وہ خاتم الانبیا ء تھا اور میں خاتم الاولیاء ہوں۔پس میرے بعد کوئی ولی نہیں آ سکتا۔مگر وہی جو مجھ میں ہو کر ظاہر ہو اور میری اتباع کا جوا اپنی گردن پر رکھے اور میرا یہ قدم ایک ایسا مینار پر قائم ہے کہ جس پر تمام بلندیاں ختم ہو گئی ہیں۔“ پس ہم تو صرف ان دو ختمیتیوں کے قائل ہیں اور ان کے سوا جو شخص خدا کے حکم کے بغیر کسی ختمیت کا دعویدار بنتا ہے، خواہ اپنے لئے اور خواہ کسی اور کے لئے وہ یقیناً جھوٹا اور غلطی خوردہ ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے دوست آئیندہ ان الفاظ کے استعمال کرنے میں جو ہمارے لٹریچر میں ایک مقدس مذہبی اصطلاح کے طور پر قائم ہو چکے ہیں ، بہت احتیاط سے کام لیں گے کیونکہ ایسے الفاظ کا غلط استعمال نہ صرف استعمال کرنے والے کو گنہ گار بناتا ہے بلکہ جماعت میں بھی فتنہ کا دروازہ کھولتا ہے۔اور ان بلند مرتبہ اصطلاحات کی ہتک کا باعث بنتا ہے جن کو خود خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھوں سے تقدس اور رفعت کی چادر پہنائی ہے۔