مضامین بشیر (جلد 1) — Page 346
مضامین بشیر ۳۴۶ لیکن اس وقت جس بات کی طرف میں دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ اور ہے۔احباب کو معلوم ہے ہمارے لٹریچر میں ” خاتم کا لفظ ایک معرکۃ الآرا لفظ رہا ہے اور آیت خاتم النبین کی تشریح کے تعلق میں اس لفظ کی حقیقت بالکل عیاں اور واضح ہو چکی ہے اور خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات میں بھی اس لفظ کے متعلق بہت کافی بحث 66 گزرچکی ہے۔پس ہمارے لئے یہ لفظ کوئی نیا لفظ نہیں بلکہ حق یہ ہے کہ اگر کوئی جماعت اس لفظ کے حقیقی معنوں سے واقف ہے تو وہ صرف احمدی جماعت ہے۔ان حالات میں جماعت کے دوستوں پر اس لفظ کے استعمال کے متعلق بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور یقیناً اگر ہم لوگ اس لفظ کو غلط طور پر استعمال کریں تو یہ ایک نہایت ہی قابل افسوس فعل ہو گا۔جیسا کہ ہر احمدی کو معلوم ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خلفاء کی تشریح کے مطابق ” خاتم سے مراد وہ برگزیدہ انسان ہے جو کسی فن میں ایسا کمال پیدا کرے کہ نہ صرف وہ تمام گزشتہ لوگوں پر سبقت لے جائے بلکہ آئندہ آنے والے لوگ بھی سب کے سب اس کے خوشہ چین بن جائیں اور کوئی شخص اس کی شاگردی کے بغیر اس میدان میں کمال پیدا نہ کر سکے۔اب کتب فروش صاحب غور کریں کہ کیا وہ خادم صاحب کو فن مناظرہ میں ایسا ہی با کمال سمجھتے ہیں کہ نہ صرف وہ تمام گزشتہ اور موجودہ مناظرین پر سبقت لے جاچکے ہوں بلکہ آئندہ کے لیئے بھی قیامت تک کوئی شخص جو مناظرہ کے فن میں کمال پیدا کرنا چاہے ، ان کے تلمذ کے بغیر اس عزت کو حاصل نہیں کر سکتا۔یقیناً وہ خادم صاحب کو ایسا نہیں سمجھتے ہوں گے ، اور اگر ایسا سمجھتے ہیں تو لا ریب وہ سخت غلطی خوردہ ہیں۔حق یہ ہے کہ کسی شخص کو کسی فن میں خاتم" کا لقب دنیا یہ صرف خدا تعالیٰ کا کام ہے اور اس کے بغیر کوئی اس بات کا حقدار نہیں کہ کسی شخص کو اس نام سے یاد کرے۔اسلام اور احمدیت کے لٹریچر میں یہ لقب صرف دو ہستیوں کے متعلق استعمال ہوا ہے اور دونوں صورتوں میں اسے خود ذات باری تعالیٰ نے استعمال کیا ہے اور ان کے استعمال کے ساتھ خدا تعالیٰ نے اس کی تائید میں دلائل کا ایک ایسا سورج چڑھا دیا ہے کہ ہر دیکھنے والا جانتا اور سمجھتا ہے کہ حق حقدار کو پہونچا ہے یعنی ایک تو قرآن شریف نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خاتم النبیین کا لفظ استعمال کیا ہے اور دوسرے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق خاتم الاولیاء کا لفظ استعمال کیا ہے اور یہ دونوں تیرا یسے نشانہ پر بیٹھے ہیں کہ صاف نظر آ رہا