مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 317 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 317

۳۱۷ کے رسول پر حقیقی ایمان لاتے ہیں اور پھر وہ اس ایمان میں کبھی ڈگمگاتے نہیں بلکہ اپنے اموال اور نفس کی طاقتوں کے ذریعہ خدا کے راستہ میں ہمیشہ جہاد کرتے رہتے ہیں۔مضامین بشیر یہ قسم عملی نفاق کی ہے جسے ہم نے تیسرے درجہ پر بیان کیا ہے اور اگر کسی کو یہ خیال ہو کہ اس جگہ نفاق کا لفظا ذکر نہیں ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ دوسری جگہ سورہ تو بہ میں یہ تصریح کر دی گئی ہے کہ اعراب کے گروہ میں ایک خاص قسم کا منافق طبقہ موجود ہے۔چنانچہ فرماتا ہے :- وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاق۔۳۵ یعنی تمہارے اردگر د صحرا میں رہنے والے اعراب میں بھی ایک گروہ منافقین کا موجود ہے مگر یہ مدینہ کے اندر رہنے والے منافق اپنے نفاق میں بہت سرکش اور پختہ ہیں۔66 الغرض یہ تین قسمیں نفاق کی ہیں جو قرآن شریف اور عقل انسانی ہر دو سے ثابت ہوتی ہیں۔اول خالص نفاق کہ دل میں کفر ہو اور ظاہر میں ایمان دوسرے کمزوری ایمان والا نفاق کہ دل میں کفر تو نہ ہو مگر بات بات میں ٹھوکر کا اندیشہ رہے اور تیسرے عملی نفاق کہ انسان مومنوں کی جماعت میں تو شامل ہوا اور جماعت کے نظام کو بھی قبول کرے۔اور عقیدہ میں بھی ایک حد تک پکا ہو مگر اس کی عملی حالت اس قدر کمزور ہو کہ جماعت کی ترقی میں ممد و معاون ہونے کی بجائے وہ عملاً جماعت کی ترقی کے رستہ میں روک بن جائے اور اس کے اعمال منکروں کے اعمال سے مشابہ رہیں۔احادیث میں منافق کی علامتیں حدیث میں بھی جو علامتیں منافق کی بیان ہوئی ہیں میں ان جملہ اقسام کے نفاق کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔چنانچہ آنحضرت فرماتے ہیں: أَرْبَعُ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمِنْهُنَّ كَانَتْ فِيْهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدْعَهَا: إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ ٣٦٠ یعنی چار خصلتیں ایسی ہیں کہ اگر وہ کسی شخص میں ایک ہی وقت اکٹھی پائی جائیں تو وہ اس بات کی علامت ہوں گی کہ وہ شخص خالص منافق ہے۔اور اگر کسی شخص میں