مضامین بشیر (جلد 1) — Page 316
مضامین بشیر ۳۱۶ جیسا کہ اس عبارت سے ظاہر ہے، اس جگہ قسم اول والا نفاق مراد ہے یعنی جانتے بوجھتے ہوئے دل میں کچھ رکھنا اور ظاہر کچھ اور کرنا اور یہی وہ خالص نفاق ہے جس کے متعلق دوسری جگہ قرآن شریف میں آتا ہے کہ : - "إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرُكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ۳۲۰ یعنی منافقین کا یہ گروہ ایسا ہے کہ انہیں دوزخ میں کافروں سے بھی نیچے کے درجہ میں رکھا جائے گا کیونکہ ان کا جرم دہرا ہے یعنی وہ کا فر بھی ہیں اور منافق بھی۔“ اس سے کچھ آگے چل کر اسی رکوع میں قرآن شریف کمزور ایمان والے منافقوں کا ذکر فرماتا ہے۔جسے ہم نے قسم دوم میں رکھا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے :- كُلَّمَا أَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمَاتٌ وَرَعْدٌ وَبَرُق۔أَضَاءَ لَهُمْ مَّشَوُا فِيْهِ وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا۔٣٣ یعنی ایک قسم منافق لوگوں کی ایسی ہوتی ہے کہ اس کی مثال اس بارش کی سی سمجھنی چاہیئے۔جس میں بادلوں کی تاریکیاں اور گرج اور بجلی پائے جاتے ہوں۔۔۔جب یہ بجلی چمکتی ہے یعنی جب خدا کا نور کسی چمکتے ہوئے نشان یا آیت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے تو یہ لوگ خوش ہو کر ایمان کے راستہ پر چل پڑتے ہیں مگر جب ابتلاؤں وغیرہ کی تاریکیاں زور کرتی ہیں تو پھر یہ لوگ شک میں پڑ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور چلنے سے رک جاتے ہیں۔یہ گو نفاق کی دوسری قسم ہے۔جسے کمزوری ایمان والا نفاق کہنا چاہیئے۔“ اور منافقوں کی تیسری قسم کا ذکر سورۃ حجرات میں آتا ہے۔جہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- قَالَتِ الأَعْرَابُ امَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الإيْمَانُ فِي قُلُوبِكُمُ۔إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُ وُا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سبيل الله ۳۴ یعنی کئی بادیہ نشین لوگ منہ سے یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں مگر اے رسول تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم ابھی مومن نہیں ہو۔ہاں بے شک تم یہ کہہ سکتے ہو کہ ہم نے اسلام کی حکومت کو اپنے اوپر تسلیم کر لیا ہے ورنہ ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔اصلی مومن تو وہ لوگ ہیں جو خدا اور اس