مضامین بشیر (جلد 1) — Page 315
عملی منافق ۳۱۵ مضامین بشیر سوم : کوئی شخص دل اور ظاہر ہر دو میں تو حقیقت مومن ہوا اور جہاں تک محض ایمان اور عقیدہ کا تعلق ہے اس کا ایمان عام حالات میں محفوظ بھی سمجھا جائے مگر عملی لحاظ سے وہ شخص اس قدر کمزور ہو کہ اس کے اعمال عموماً منکروں کے اعمال کے مشابہ ہوں۔اس قسم کے منافق کو عملی منافق کہتے ہیں مگر یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ اس جگہ عملی کمزوری سے عام عملی کمزوری مراد نہیں جو کم و بیش اکثر اشخاص میں پائی جاتی ہے بلکہ ایسی کمزوری مراد ہے جو انسان کو کفار اور منکروں کے مشابہ بنادے اور خصوصاً یہ کہ دین اور نظام جماعت کے لئے محبت اور غیرت اور قربانی کا جذ بہ عملاً مفقود ہو اور نہ صرف یہ کہ انسان جماعت کی ترقی میں کوشاں نہ ہو بلکہ عملاً اس کے راستہ میں روڑے اٹکانے والا ثابت ہو۔منافقین کا ذکر قرآن میں یہ وہ تین موٹی قسمیں ہیں جن میں نفاق کا مرض تقسیم شدہ ہے اور قرآن شریف نے ان تینوں اقسام کے متعلق علیحدہ علیحدہ تشریح کے ساتھ ذکر کیا ہے۔مثلاً پارہ اول کے شروع میں ہی قرآن شریف میں فرماتا ہے :- "وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ يُخْدِعُونَ اللهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا۔۔وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى يَشْعُرُونَ شَيطِيْنِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمُ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُ وُنَ۔یعنی لوگوں میں ایک ایسا گروہ ہے جو کہتا ہے کہ ہم خدا اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں مگر دراصل وہ مومن نہیں ہوتے۔وہ خدا اور مومنوں کی جماعت کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔مگر اس دھو کے کا وبال خود انہی پر پڑتا ہے۔لیکن وہ سمجھتے نہیں۔یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں۔مگر جب اپنے شیطان رئیسوں کے ساتھ خلوت میں اکھٹے ہوتے ہیں تو انہیں یہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصل میں تمہارے ساتھ ہیں ان مومنوں کو تو ہم یونہی بناتے ہیں۔