مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 298 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 298

مضامین بشیر ۲۹۸ صداقت کے نکتہ پر قائم رکھے۔یعنی نہ تو دشمن کے حق میں ظالم بنے اور نہ دوست کے حق میں۔بلکہ دوست کے حق میں ظالم بننا دوہرا گناہ ہے۔بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ صداقت کے شوق میں بعض لوگ بلا پوچھے ایک لاتعلق بات بیان کرنے لگ جاتے ہیں۔یہ بھی اعصابی کمزوری یا باتونی پن کا ایک نتیجہ ہے اور بسا اوقات فتنہ کا باعث ہوتا ہے۔اسلام ہمیں یہ حکم نہیں دیتا کہ تم افسر یا عدالت کے سامنے بغیر سوال کے لا تعلق قصے شروع کر دو بلکہ وہ صرف یہ چاہتا ہے کہ جو بات پوچھی جائے وہ اس حد تک کہ جس حد تک پوچھی گئی ہے بلا کم و کاست سچ سچ بیان کر دی جائے اور غلط بیانی اور نا واجب پردہ داری سے بچا جائے۔میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے دوست جن کو ہر بات میں اعلیٰ ترین نمونہ قائم کرنا چاہیئے ، اپنی گواہیوں میں اسلامی معیار کے مطابق پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔خصوصا زمینداروں کو شہادت کے معاملہ میں بڑی اصلاح کی ضرورت ہے کیونکہ وہ اکثر اوقات محبت وعداوت کے جذبات میں بہہ کر دانستہ یا نا دانستہ جھوٹ کے حامی ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کا حافظ و ناصر ہو اور ہمیں اپنی رضا کے رستوں پر چلنے کی توفیق دے۔آمین ( مطبوعه الفضل ۳ مارچ ۱۹۳۸ء)