مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 297 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 297

۲۹۷ مضامین بشیر احتیاط سے کام لینا چاہئے پس ہمارے دوستوں کو اس معاملہ میں بڑی احتیاط سے کام لینا چاہیئے اور ہر ایسے موقع پر استغفار کرتے ہوئے عدالت کے سامنے کھڑے ہونا چاہیئے تا کہ کوئی جذبہ محبت یا عداوت یا لالچ یا ڈرا نہیں صداقت کے رستہ سے منحرف نہ کر سکے۔بے شک وہ دشمن جس نے ہر حال میں عداوت کی ٹھانی ہوئی ہو ، ہم پر پھر بھی اعتراض کرے گا مگر ہم خدا کے رو بر وضر ور سرخرو ہوں گے۔مصری صاحب کا اعتراض مجھے یاد ہے کہ جب کچھ عرصہ ہوا میں شیخ عبد الرحمن صاحب مصری کے ایک مقدمہ میں عدالت کے بلانے پر بطور گواہ پیش ہوا تو میں یہ دعا کرتا ہوا اندر گیا تھا کہ خدایا مصری صاحب اس وقت ہمارے دشمن بنے ہوئے ہیں تو مجھے تو فیق عطا کر کہ اُن کے متعلق بھی میرے مونہہ سے سوائے کلمہ حق کے اور کچھ نہ نکلے اور میری شہادت میں کوئی بات صداقت کے خلاف یا اُسے چھپانے والی نہ ہو۔اور میں اس وقت دل میں بار بار یہ آیت پڑھ رہا تھا کہ لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوای ۲۵ مگر با وجود اس کے میں سنتا ہوں کہ مصری صاحب نے میری گواہی کے متعلق کسی مجلس میں یہ کہا ہے کہ گو اس نے اکثر باتوں میں سچ بولا ہے مگر بعض جھوٹی باتیں بھی کہہ گیا ہے۔میں ان کے اعتراض کو تو حوالہ باخدا کرتا ہوں مگر بہر حال میں جماعت کے دوستوں کو یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ شہادت کے معاملہ میں اپنے معیار صداقت کو بلند کر کے عین اسلامی تعلیم کے منشاء کے مطابق بنا ئیں اور ہمیشہ دوستی دشمنی کے جذبات سے بالکل الگ ہو کر کچی کچی گواہی دیا کریں۔کسی کے حق میں ظالم نہ بنو مگر اس جگہ ایک احتیاط کی طرف اشارہ کر دینا ضروری ہے۔بعض اوقات بعض لوگ شہادت کے معاملہ میں حد سے زیادہ احتیاط کا طریق اختیار کرتے ہوئے اس قدر حساس ہو جاتے ہیں کہ وہ اس بات کے شوق میں کہ دشمن کے حق میں بھی بالکل سچی بات کہنی ہے بعض اوقات نادانستہ طور پر دوست کے حق میں ظلم کے مرتکب ہو جاتے ہیں اور دشمن کو بچاتے ہوئے نا دانستہ طور پر دوست کے خلاف جھوٹ بول جاتے ہیں۔ایسا بھی نہیں ہونا چاہیئے بلکہ مومن کو چاہیئے کہ اپنے کلام کے تر از وکو عین