مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 296 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 296

مضامین بشیر ۲۹۶ میں عدالت کی طرف سے یا فریق مخالف کی طرف سے یا بعض اوقات خود دشمن کی طرف سے بطور گواہ بلایا جاتا ہے اور وہ دشمن کو نقصان پہونچانے کے لئے محض عداوت کے طور پر حق کو چھپا کر کچھ کا کہہ آتا ہے یا عمر کو خود اپنا ایک مقدمہ در پیش ہے اور اس مقدمہ میں اس کی اپنی گواہی ہوتی ہے اور وہ اپنے مفاد کو محفوظ کرنے کے لئے محض لالچ کے طور پر حق پر پردہ ڈال دیتا ہے یا خالد کسی دوسرے کے مقدمہ میں بطور گواہ کے پیش ہوتا ہے اور وہ محض اس لئے کہ میرے کسی افسر کی طرف سے مجھے نقصان نہ پہونچے یا کوئی بڑا شخص مجھ سے ناراض نہ ہو جائے جھوٹ بول کر صداقت کو چھپا دیتا ہے۔مکروہ قسم کا جھوٹ یہ سارے نظارے ہر روز سینکڑوں ہزاروں بلکہ شائد لاکھوں کی تعداد میں ملک کی عدالتوں میں پیش آتے ہیں اور اس مکروہ قسم کے جھوٹ میں کم و بیش ملک کا ہر طبقہ ملوث نظر آتا ہے۔زمیندار ، تاجر ، قارض ، مقروض ، افسر، ماتحت ، شہری ، دیہاتی ، امیر، غریب، جاہل، تعلیم یافته ، پیشہ ور ملا زم حتی که دنیا دار اور بظاہر دین دار سمجھے جانے والے سب کے سب إِلَّا مَا شَاءَ اللہ اس گند میں مبتلا ہیں۔اور مسلمان جنہیں اس معاملہ میں سب سے زیادہ واضح اور سب سے زیادہ تاکیدی تعلیم دی گئی تھی وہ بھی دوسروں کی طرح اس مرض کا شکار ہورہے ہیں بلکہ شائد ان سے بھی بڑھ کر کیونکہ جب ایک سچا آدمی صداقت کو چھوڑتا ہے تو وہ عموماً دوسروں سے بھی ایک قدم آگے نکل جاتا ہے۔جماعت احمد یہ خدا کے فضل سے اس گند سے بہت حد تک بچی ہوئی ہے اور اس میں بیشمار ایسے نمونے نظر آتے ہیں کہ لوگوں نے اپنا یا اپنے عزیزوں کا نقصان کر کے دشمنوں کے حق میں سچی گواہی دی ہے اور افسروں یا بااثر لوگوں کی ناراضگی کی قطعا پروانہیں کی مگر بدقسمتی سے شاذ کے طور پر بعض مثالیں ان میں بھی ایسی پیدا ہو رہی ہیں کہ کسی کی محبت یا عداوت کی وجہ سے حق پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔میں مانتا ہوں کہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ گواہ اپنی طرف سے سچ کہہ رہا ہوتا ہے مگر واقع میں اس کا بیان غلط ہوتا ہے لیکن وہ اپنے غفلت کے پردہ میں اپنی غلطی کو سمجھتا نہیں مگر غور کیا جائے تو اس کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے کہ کیوں اس نے اپنے آپ کو چوکس رکھ کر جھوٹی گواہی سے نہیں بچایا۔یا بعض اوقات یہ سمجھ لیا جا تا ہے کہ صرف جھوٹ بولنا گناہ ہے۔حق کو چھپانا یا ذو معنیین قسم کے الفاظ کہہ کر صداقت پر پردہ ڈال دینا گناہ نہیں ہے لیکن یہ ایک خطر ناک دھوکا ہے کیونکہ اسلامی تعلیم کی رو سے شہادت میں حق کو چھپانا بھی ویسا ہی جرم ہے جیسا کہ جھوٹ بولنا۔