مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 23 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 23

۲۳ ١٩٢٦ء مضامین بشیر سیرت المہدی اور غیر مبایعین ناظرین کو معلوم ہے کہ کچھ عرصہ ہوا میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حالات میں ایک کتاب سیرت المہدی حصہ اوّل شائع کی تھی۔اس کتاب کی تصنیف کے وقت میرے دل میں جو نیت تھی اسے صرف میں ہی جانتا ہوں یا مجھ سے بڑھ کر میرا خدا جانتا ہے جس سے کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں اور مجھے اس وقت یہ وہم و گمان تک نہ تھا کہ کوئی احمدی کہلانے والا شخص اس کتاب کو اس حاسدانہ اور معاندانہ نظر سے دیکھے گا۔جس سے کہ اہل پیغام نے اسے دیکھا ہے مگر اس سلسلہ مضامین نے جو ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کی طرف سے گذشتہ ایام میں پیغام صلح لاہور میں شائع ہوتا رہا ہے۔میری اُمیدوں کو ایک سخت ناگوار صدمہ پہنچایا ہے۔جرح و تقید کا ہر شخص کوحق پہنچتا ہے اور کوئی حق پسند اور منصف مزاج آدمی دوسرے کی ہمدردانہ اور معقول تنقید کو نا پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا بلکہ دراصل یہ ایک خوشی کا مقام ہوتا ہے کیونکہ اس قسم کی بحثیں جو نیک نیتی کے ساتھ معقول طور پر کی جائیں طرفین کے علاوہ عام لوگوں کی بھی علمی تنویر کا موجب ہوتی ہیں کیونکہ اس طرح بہت سے مفید معلومات دنیا کے سامنے آ جاتے ہیں اور چونکہ طرفین کی نیتیں صاف ہوتی ہیں اور سوائے منصفانہ علمی تنقید کے اور کوئی غرض نہیں ہوتی اس لئے ایسے مضامین سے وہ بد نتائج بھی پیدا نہیں ہوتے جو بصورت دیگر پیدا ہونے یقینی ہوتے ہیں مگر مجھے بڑے افسوس اور رنج کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کا مضمون اس شریفانہ مقام تنقید سے بہت گرا ہوا ہے۔میں اب بھی ڈاکٹر صاحب کی نیت پر حملہ نہیں کرنا چاہتا لیکن اس افسوس ناک حقیقت کو بھی چھپایا نہیں جاسکتا کہ ڈاکٹر صاحب کے طویل مضمون میں شروع سے لے کر آخر تک بغض و عداوت کے شرارے اُڑتے نظر آتے ہیں اور ان کے مضمون کا لب ولہجہ نہ صرف سخت دل آزار ہے بلکہ ثقاہت اور متانت سے بھی گرا ہوا ہے۔جا بجا تمسخر آمیز طریق پر ہنسی اُڑائی گئی ہے اور عامی لوگوں کی طرح شوخ اور چست اشعار کے استعمال سے مضمون کے تقدس کو بری طرح صدمہ پہنچایا گیا ہے۔مجھے اس سے قبل ڈاکٹر صاحب کی کسی تحریر کے دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا اور حق یہ ہے کہ باوجود عقیدہ کے اختلاف کے میں آج تک ڈاکٹر صاحب