مضامین بشیر (جلد 1) — Page 261
۲۶۱ مضامین بشیر تحریک اصلاح نفس کے متعلق آخری یاد دہانی میں نے اس رمضان مبارک کے بارے میں احباب سے ایک تحریک اصلاح نفس کے متعلق کی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک ارشاد کی روشنی میں احباب سے اپیل کی تھی کہ اس رمضان میں اپنے کسی ایک یا ایک سے زیادہ کمزوری کے دور کرنے کا خدا سے عہد کریں اور پھر خدا سے مدد مانگتے ہوئے اس عزم کے ساتھ اس پر قائم ہوں کہ کوئی دنیا کی طاقت آپ کو اس ارادے سے ہٹا نہ سکے۔مجھے خوشی ہے کہ آج کی تاریخ تک جو کہ رمضان کی بائیس تاریخ ہے دوسوا ناسی (۲۷۹) احباب اس تحریک میں شامل ہو چکے ہیں اور میں اپنے وعدہ کے مطابق ان دوستوں کے نام دُعا کی تحریک کے ساتھ ہر روز حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ ان دوستوں کا حامی و ناصر ہو اور انہیں ان کے نیک مقاصد اور ارادوں میں کامیاب فرمائے۔آمین اب چونکہ رمضان کے آخری آیام ہیں اس لئے میں یہ آخری یاد دہانی شائع کر کے احباب سے اپیل کرتا ہوں جن دوستوں نے کسی وجہ سے ابھی تک اس تحریک کی طرف توجہ نہیں کی وہ بھی اس میں شامل ہو کر اصلاح نفس اور حصول ثواب کے موقع سے فائدہ اٹھائیں اور رضائے الہی کی جستجو میں ستی اور بے تو جہی سے کام نہ لیں۔دوسری بات اس ضمن میں میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بعض دوستوں نے غالباً اس تحریک کی غرض و غایت اور حقیقت کو نہیں سمجھا کیونکہ متعدد دوستوں نے اپنے خطوط میں اس قسم کے الفاظ لکھے ہیں کہ ہم اپنی جملہ کمزوریوں کو ترک کرنے کا عہد کرتے ہیں۔یہ ارادہ اور یہ خواہش مبارک ہے مگر جو تحریک اس وقت کی گئی ہے اس کا منشاء یہ ہے کہ دوست اپنی کسی معین اور مخصوص کمزوری یا کمزوریوں کو سامنے رکھ کر ان کے متعلق خدا سے عہد کریں کہ آئندہ وہ اُن سے مجتنب رہیں گے تا کہ اصلاح نفس کے ساتھ محاسبہ نفس کی بھی عادت پیدا ہو۔محض عمومی رنگ میں ساری کمزوریوں کے ترک کا ارادہ نیک ارادہ تو ضرور سمجھا جائے گا مگر وہ اس تحریک کے ماتحت نہیں آسکتا۔جو اس وقت کی گئی ہے دوسری بات جو میں یہ کہنا چاہتا ہوں ، یہ ہے کہ بعض دوستوں نے اپنے خطوں میں با وجو د منع کرنے کے اپنی کمزوریوں کا ذکر کر دیا ہے۔یعنی یہ کہ ہم فلاں فلاں کمزوری سے مجتنب رہیں گے۔یہ نہ صرف اعلان کے خلاف