مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 254 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 254

مضامین بشیر ۲۵۴ (۵۱) نوکروں کے ساتھ نا واجب سختی اور ظلم سے پیش آنا۔(۵۲) مقدمہ بازی کی عادت یعنی بات بات پر مقدمہ کھڑا کر دینے کی عادت یا دیگر بہتر ذرائع سے فیصلہ کا رستہ کھلا ہونے کے باوجود مقدمہ کا طریق اختیار کرنا۔(۵۳) ستی اور کا ہلی یعنی اپنے وقت کی قیمت کو نہ پہچانتے ہوئے اپنے کام میں سنتی اور کاہلی کا طریق اختیار کرنا۔(۵۴) فضول خرچی یعنی اپنی آمد سے اپنے خرچ کو بڑھا لینا۔(۵۵) فضول اور ضرر رساں کھیلوں میں وقت گزارنا یعنی شطر نج تاش وغیرہ۔(۵۶) کھانے پینے میں اسراف۔(۵۷) اولاد کی نا واجب محبت۔(۵۸) بدظنی کی عادت یعنی دوسرے کے ہر فعل کی تہہ میں کسی خاص خراب نیت کی جستجو رکھنا۔(۵۹) عزیزوں اور دوستوں کی موت پر نا جائز جزع فزع کرنا۔(۶۰) شادیوں کے موقع پر اپنی طاقت سے بڑھ کر خرچ کرنا۔(۶۱) قرضہ لینے میں نا واجب دلیری سے کام لینا اور چھوٹی چھوٹی ضرورت پر بلکہ غیر حقیقی ضرورت پر قرضہ لے لینا وغیرہ وغیرہ۔یہ چند کمزوریاں جو بغیر کسی خاص ترتیب کے اوپر درج کی گئی ہیں۔ان میں سے کوئی ایک یا ایک سے زائد کمزوری مد نظر رکھ کر ان کے متعلق اس رمضان کے مہینہ میں اپنے دل میں عہد کیا جائے کہ آئیند ہ خواہ کچھ ہو ہر حال میں ان سے کلی اجتناب کیا جائے گا۔اور پھر اس عہد پر دوست ایسی پختگی اور ایسے عزم کے ساتھ قائم ہوں کہ خدا کے فضل سے دنیا کی کوئی طاقت انہیں اس عزم سے ہلا نہ سکے۔جو دوست اس تحریک میں حصہ لیں انہیں چاہئے کہ دفتر ہذا کو اپنے ارادے سے بذریعہ خط اطلاع کر دیں اس اطلاع میں اس کمزوری کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں جس کے متعلق عہد باندھا گیا ہو۔بلکہ صرف اس قدر ذکر کافی ہے کہ میں نے ایک یا ایک سے زائد کمزوریوں کے خلاف دل میں عہد کیا ہے۔نظارت ہذا اس کا وعدہ کرتی ہے کہ انشاء اللہ ایسے دوستوں کی ایک مکمل فہرست ہر روز مرتب کر کے حضرت امیر المومنین خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں دعا کی تحریک کے ساتھ پیش کر دیا کرے گی۔وبالله التوفيق ( مطبوعه الفضل ۵ نومبر ۱۹۳۷ء)