مضامین بشیر (جلد 1) — Page 191
۱۹۱ کی بارش ہو رہی ہے۔گیا کے قریب ایک چھوٹا سا دریا تھا۔جس کا نام پھلگر ہے وہ بالکل خشک ہو گیا۔جہاں پہلے پانی تھا وہاں اب ریت کے انبار لگے ہوئے ہیں نہ معلوم دریا کا پانی کہاں غائب ہو گیا لیکن تعجب خیز بات یہ ہے کہ وہ ندیاں جو اس موسم میں بالکل خشک ہوا کرتی تھیں پانی سے بھر گئی ہیں۔۵۰ وه مونگھیر کی تباہی کے متعلق ایک صاحب کا چشم دید بیان ہے کہ : - بج کر ۵ منٹ پر جب کہ میں بازار میں جا رہا تھا دفعتہ ہولناک آواز سنائی دی۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہوائی جہاز آ رہا ہے۔چند ہی سیکنڈ میں کپکپی اور رعشہ شروع ہونے لگا۔پھر زمین میں دائیں اور بائیں دوحرکتیں ہوئیں۔بعد ازاں ایسا معلوم ہوا کہ کسی نے زمین کو چرخی پر رکھ کر گھما دیا ہے۔۔۔میرے ہوش وحواس زائل ہو گئے۔آدھ گھنٹہ کے بعد سنبھلا تو ایک عجیب منظر میرے سامنے تھا۔جہاں تک نظر جاتی تھی کھنڈر ہی کھنڈر دکھائی دیتے تھے۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ میں مونگھیر میں نہیں۔شہر کی حالت اتنی تبدیل ہو گئی تھی کہ میں اپنا گھر نہ پہچان سکا۔آخر ایک ٹیلہ پر بیٹھ کر رات گزاری۔صبح اٹھ کر دیکھا تو تمام شہر خاک کا ڈھیر تھا۔۵۱ آنریبل سید عبدالعزیز صاحب وزیر تعلیم صوبہ بہار بیان کرتے ہیں کہ : - ایک جگہ نہر پانی سے بھری ہوئی رواں تھی۔زمین پھٹی اور نہر کا پانی اند رسما گیا اور نہر خشک ہو گئی۔ایک لاری جا رہی تھی۔زلزلہ آیا اور آدمی اس سے اتر گئے۔زمین شق ہوگئی اور لاری زمین کے اندر سما گئی۔اس کے بعد زمین لاری کو اپنے پیٹ مضامین بشیر میں لے کر اس طرح پیوست ہوگئی کہ گویا کچھ ہوا ہی نہیں“۔۵۲ مہا راجہ صاحب مونگھیر کے داماد کا بیان ہے کہ :- وہ شہر ( مونگھیر ( جو کسی وقت نہایت خوبصورت اور دلکش تھا ، نہایت بھیانک اور خوفناک منظر پیش کر رہا تھا۔سوائے منہدم دوکانات کے ملبوں کے علاوہ وہاں کوئی چیز نظر نہیں آتی تھی۔ابھی ہلاک ہونے والوں کا صحیح اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔فی الحال ۲۵ ہزار آدمیوں کا اندازہ کیا گیا ہے۔اب تک میونسپلٹی رجسٹروں میں ۱۲ ہزار کے نام درج ہو چکے ہیں۔چیل اور کووں کے جھنڈ کے جھنڈ مردہ لاشوں کو چیر نے اور پھاڑنے میں مشغول نظر آتے ہیں۔تمام شہر قبرستان کا ایک ہیبت ناک منظر پیش