مضامین بشیر (جلد 1) — Page 183
۱۸۳ مضامین بشیر آنکھوں کے سامنے آجائے گا اور لوط کی زمین کا واقعہ تم بچشم خود دیکھ لو گے مگر خدا غضب میں دھیما ہے تو بہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے۔۳۴ مندرجہ بالا خدائی الہامات و مکاشفات میں جس دل ہلا دینے والے طریق پر زلزلوں کی خبر دی گئی ہے۔وہ کسی تشریح کا محتاج نہیں اور جیسا کہ ان میں صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے یہ شروع سے مقدر تھا کہ موعودہ زلزلے دنیا کے مختلف حصوں میں اور مختلف وقتوں میں آئیں اور ان میں سے بعض اس قدر سخت ہوں کہ قیامت کا نمونہ پیش کریں۔سو ان میں سے بعض زلزلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں آگئے۔( جیسا کہ شمال مغربی ہندوستان۔جزائر غرب الہند۔فارموسا۔سان فرانسسکو اور چلی وغیرہ میں پے در پے خطرناک زلزلے آئے ) اور یہ زلزلے اس طرح غیر معمولی طور پر آئے کہ مشہور انگریزی اخبار پاؤ نیر کو حیران ہوکر لکھنا پڑا کہ یہ بالکل ایک غیر معمولی تباہی ہے۔چنانچہ پاؤ نیر نے لکھا۔اس عالمگیر تباہی کی دنیا کی تاریخ میں حضرت مسیح ناصری کے ایک سوسال بعد سے لے کر آج تک بہت ہی کم مثال نظر آتی ہے۔۳۵ لا ہور کے ایک انگریزی اخبا رسول نے لکھا : - جمیکا کا تباہ کن زلزلہ جو ۱۹۰۶ ء کے اسی قسم کے بہت سے تباہ کن زلازل کے اس قدر جلد بعد آیا ہے۔ہر شخص کے دل میں یہ خیال پیدا کر رہا ہے کہ اب سطح زمین امن کی جگہ نہیں رہی۔۔۔اس زلزلہ میں ہمیں اس قسم کے ہیبت ناک واقعات دیکھنے میں آرہے ہیں جو دور کے کسی گزشتہ زمانہ میں سنا جاتا ہے کہ ہوا کرتے تھے یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اس کرہ ارض کو چھوڑ کر کسی اور پر امن کرہ میں نہیں جا سکتے “۔۳۶ الغرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے بعد آپ کی زندگی میں دنیا کے مختلف حصوں میں بڑے سخت زلزلے آئے اور بعض آپ کی وفات کے بعد آئے۔( جیسا کہ اٹلی ، جاپان ، چین وغیرہ کے تباہ کن زلزلے ) اور بعض آئندہ آئیں گے اور یہ خدا ہی کو علم ہے کہ وہ کب کب اور کہاں کہاں آئیں گے اور ان کے نتیجہ میں کیا کیا تبا ہی مقدر ہے۔مگر وہ تباہ کن زلزلہ جو حال ہی میں ۱۰ جنوری ۱۹۳۴ء کو ہندوستان کے شمال مشرق میں آیا ہے جس نے صوبہ بہار اور ریاست نیپال اور بنگال کے بعض حصوں میں قیامت برپا کر رکھی ہے۔وہ ایک ایسا زلزلہ ہے کہ اس میں ۱۹۰۵ء کے شمال مغربی ہندوستان والے زلزلہ کی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بانی