مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 182 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 182

مضامین بشیر پھر فر ماتے ہیں :- ۱۸۲ وہ جو تھے اونچے محل اور وہ جو تھے قصر بریں پست ہو جائیں گے جیسے پست ہو اک جائے غار ایک ہی گردش سے گھر ہو جا ئیں گے مٹی کا ڈھیر جس قدر جانیں تلف ہوں گی نہیں ان کا شمار تم سے غائب ہے مگر میں دیکھتا ہوں ہر گھڑی پھرتا ہے آنکھوں کے آگے وہ زماں وہ روزگار ۳۳ وہ زلزلے جو سان فرانسسکو اور فارموسا وغیرہ میں میری پیشگوئی کے مطابق آئے وہ تو سب کو معلوم ہیں۔لیکن حال میں ۱۶ اگست ۱۹۰۶ء کو جو جنوبی حصہ امریکہ یعنی چلی کے صوبہ میں ایک سخت زلزلہ آیا۔وہ پہلے زلزلوں سے کم نہ تھا۔جس سے پندرہ چھوٹے بڑے شہر اور قصبے برباد ہو گئے اور ہزار ہا جا نیں تلف ہوئیں اور دس لاکھ آدمی اب تک بے خانماں ہیں۔شاید نادان لوگ کہیں گے کہ یہ کیوں کر نشان ہو سکتا ہے۔یہ زلزلے تو پنجاب میں نہیں آئے مگر وہ نہیں جانتے کہ خدا تمام دنیا کا خدا ہے نہ صرف پنجاب کا اور اس نے تمام دنیا کے لئے یہ خبر یں دی ہیں نہ صرف پنجاب کے لئے۔۔یاد رہے کہ خدا نے مجھے عام طور پر زلزلوں کی خبر دی ہے۔پس یقیناً سمجھو کہ جیسا کہ پیشگوئی کے مطابق امریکہ میں زلزلے آئے۔ایسا ہی یورپ میں بھی آئے اور نیز ایشیاء کے مختلف مقامات میں آئیں گے اور بعض ان میں قیامت کا نمونہ ہوں گے اور اس قدرموت ہوگی کہ خون کی نہریں چلیں گی اور اکثر مقامات زیر وزبر ہو جائیں گے کہ گویا ان میں کبھی آبادی نہ تھی۔۔یہ مت خیال کرو کہ امریکہ وغیرہ میں سخت زلزلے آئے اور تمہارا ملک ان سے محفوظ ہے۔میں تو دیکھتا ہوں کہ شاید ان سے زیادہ مصیبت کا منہ دیکھو گے۔اے یورپ تو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا تو بھی محفوظ نہیں اور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمھاری مدد نہیں کرے گا۔میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔میں نے کوشش کی کہ خدا کی امان کے نیچے سب کو جمع کروں پر ضرور تھا کہ تقدیر کے نوشتے پورے ہوتے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس ملک کی نوبت بھی قریب آتی جاتی ہے۔نوح کا زمانہ تمھاری