مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 181 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 181

۱۸۱ مضامین بشیر وَاَخْرَجَتِ الْأَرْضُ اثْقَالَهَا۔وَقَالَ لَا انْسَانُ مَالَهَا۔۲۸ کیا تمھارے پاس زلزلہ کی خبر پہنچ گئی ہے۔جب زمین کو سخت دھکے آئیں گے اور وہ اپنے اندر کی چیزیں نکال کر باہر پھینک دے گی اور لوگ حیرت سے کہیں گے زمین کو کیا ہو گیا ہے۔“ پھر ۱۲ اگست ۱۹۰۶ ء کو الہام ہوا : - صحن میں ندیاں چلیں گی اور سخت زلزلے آئیں گے ۲۹ یعنی سخت زلزلوں کے ساتھ ساتھ بعض طغیانیاں بھی مقدر ہیں اور یہ دونوں مل کر تباہی کا باعث بنیں گے۔“ پھر ۱۹ مارچ ۱۹۰۷ء کو فرمایا : - ارَدْتُ زَمَانَ الزَّلْزَلَةِ۔٣٠ یعنی خدا فرماتا ہے کہ میں نے ارادہ کیا ہے کہ اب دنیا پر زلزلوں کا زمانہ آجائے۔“ پھر ۲۴ مارچ ۱۹۰۷ ء کو فر مایا : - لاکھوں انسانوں کو تہ و بالا کر دوں گا۔۳۱ یعنی یہ جو زلازل کا زمانہ آرہا ہے اس میں دنیا کے مختلف حصوں میں زلزلے آئیں گے اور لاکھوں جانیں ضائع ہوں گی۔پھر ۲ امئی ۱۹۰۷ ء کو الہام ہوا : - ان شہروں کو دیکھ کر رونا آئے گا ۳۲ مندرجہ بالا الہامات ورؤیا کے علاوہ اور بھی بہت سے الہامات اور خواہیں ہیں جن میں زلزلہ کی خبر دی گئی ہے اور بعض الہامات میں یہ بتایا گیا ہے کہ بعض زلزلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ہی آئیں گے اور بعض آپ کے بعد۔مگر اس جگہ اختصار کے خیال سے صرف اسی پر اکتفا کی جاتی ہے اور الہامات اور خوابوں پر ہی بس نہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے زلزلوں کے متعلق بعض مکاشفات بھی دیکھے ہیں جنہیں آپ نے اپنی تصنیفات میں درج فرمایا ہے۔مثلاً آپ اپنی ایک نظم میں فرماتے ہیں۔وہ تباہی آئے گی شہروں پہ اور دیہات پر جس کی دنیا میں نہیں ہے مثل کوئی زینہار ایک دم میں غم کدے ہو جائیں گے عشرت کد کے شادیاں جو کرتے تھے بیٹھیں گے ہو کر سوگوار