مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 176 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 176

مضامین بشیر ہیبت کے مارے اوپر نہیں اٹھ سکیں گی۔“ 127 اسی کے مطابق احادیث میں بھی قرب قیامت کی علامت کے ذکر میں صراحت کے ساتھ یہ بیان ہوا ہے کہ اس زمانہ میں بڑی کثرت کے ساتھ زلزلے آئیں گے۔کے اسی طرح جب شروع شروع میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا کی طرف سے حکم پا کر دعوی کیا تو آپ کے ابتدائی الہاموں میں آئندہ آنے والے زلزلوں کی خبر تھی۔چنانچہ ۱۸۸۳ء کا ایک الہام ہے کہ : - فَبَرَّاهُ اللهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِندَ اللَّهِ وَجِيْهَا۔أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدُهُ فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَل جَعَلَهُ دَكَّا وَاللَّهُ مُؤْهِنُ كَيْدِ الْكَافِرِينَ»۔یعنی خدا اپنے اس مامور مرسل کی ان تمام باتوں سے بریت ظاہر کرے گا جو مخالف لوگ اس کے متعلق کہیں گے۔کیونکہ وہ خدا کی طرف سے عزت یا فتہ ہے۔کیا مخالفوں کے حملوں کے مقابلہ پر اللہ اپنے اس بندہ کے لئے کافی نہیں ہے۔جب خدا اپنی تجلی پہاڑ پر کرے گا تو اس کو پارہ پارہ کر دے گا اور منکرین کی ساری تدبیروں کو خدا تعالیٰ خاک میں ملا دے گا۔پھر اسی براہین احمدیہ میں دوسری جگہ یہ الہام درج ہے کہ۔فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَل جَعَلَهُ دَكَّا۔قُوَّةُ الرَّحْمَنِ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الصَّمَدِ۔یعنی وہ زمانہ آتا ہے کہ ” جب خدا پہاڑ پر اپنی تجلی ظاہر کرے گا تو اسے پارہ پارہ کر دے گا۔یہ کام خدا تعالیٰ کی خاص قدرت سے ہوگا جسے وہ اپنے بندے کے لئے ظاہر کرے گا۔“ ۱۹۰۵ء کا تباہ کن زلزلہ اس کے بعد جب خدا کے علم میں زلازل کا زمانہ قریب آیا تو خدا تعالیٰ نے زیادہ صراحت اور زیادہ تعیین کے ساتھ اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر الہامات نازل فرمائے۔چنانچہ سب سے پہلے اُس ہیبت ناک اور تباہ کن زلزلہ کی خبر دی گئی جو ۴ اپریل ۱۹۰۵ء کو شمال مغربی ہندوستان میں آیا جس سے کانگڑہ کی آباد وادی خدائی عذاب کا ایک عبرت ناک نشانہ بن گئی۔چنانچہ