مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 160 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 160

مضامین بشیر 17۔کیونکہ تربیت اور اصلاح کے کام سے اس علم کو خاص تعلق ہے بلکہ حق یہ ہے کہ شریعت کی داغ بیل زیادہ تر اسی علم کی بناء پر قائم ہوتی ہے لیکن جیسا کہ قرآن شریف ہمیں بتاتا ہے اور حالات سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے انبیاء کے بھی مدارج ہیں جیسا جیسا کام کسی نبی کے سپرد ہونا ہوتا ہے۔اسی کے مطابق اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے توفیق دی جاتی اور علوم کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔رسول کریم اور علم النفس ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چونکہ خاتم النبیئین تھے اور بخلاف گزشتہ انبیاء کے ساری دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے تھے اور آپ کا پیغام ہرا سود واحمر کے نام تھا۔اور آپ کی شریعت ہر قوم اور ہر زمانہ کے لئے بھیجی گئی تھی۔اس لئے طبعا آپ کے اندر وہ قو تیں بھی ودیعت کی گئی تھیں اور وہ علوم آپ کو عطا ہوئے تھے جو اس عظیم الشان کام کے سرانجام دینے کے لئے ضروری تھے اور اس میں کسی نبی کی بہتک نہیں ہے کہ دوسرے انبیاء میں سے کسی کو وہ علوم نہیں دیئے گئے جو آپ کو دیئے گئے اور کوئی ان قوتوں کو ساتھ لے کر نہیں آیا جنہیں لے کر آپ مبعوث ہوئے۔اسی لئے آپ نے فرمایا ہے۔انا سَيَّدُ وَلَدِادَمَ وَلَا فَخُر ٢٠ میں آدم کی اولاد کا سردار ہوں مگر اس کی وجہ سے میں اپنے نفس میں کوئی تکبر نہیں پاتا اور جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم افضل الرسل تھے تو ضروری تھا کہ علم النفس میں بھی جس کا جاننا فرائض نبوت کی ادائیگی کے ساتھ گویا لازم وملزوم کے طور پر ہے۔آپ سب سے اول اور سب سے آگے ہوں اور ہم دیکھتے ہیں کہ حقیقہ ایسا ہی تھا چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خدا تعالیٰ نے تربیت اور اصلاح کا عظیم الشان اور عدیم المثال کام لینا تھا۔اس لئے یہ علم آپ کے وجود میں اس طرح سرایت کئے ہوئے تھا جیسے ایک عمدہ اسفنج کا ٹکڑا پانی میں ڈبو کر نکالنے کے بعد پانی سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور ایک قدرتی چشمے کے طور پر اس علم کی ابدی صداقتیں آپ سے پھوٹ پھوٹ بہتی تھیں۔چونکہ میرے لئے اس مختصر مضمون میں اس موضوع کے سارے پہلوؤں کے بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے بلکہ کسی ایک پہلو کو بھی تفصیل کے ساتھ نہیں بیان کیا جاسکتا۔اس لئے میں اس جگہ نہایت اختصار کے ساتھ صرف چند مثالیں آپ کے کلام میں سے بیان کروں گا جن سے یہ پتہ لگتا ہے کہ کس طرح آپ کی ہر بات علم النفس کے ابدی اصول کے سانچے میں ڈھلی ہوئی نکلتی تھی۔اور زیادہ اختصار کے خیال سے میں آپ کے کلام میں سے بھی صرف اس حصہ کو لوں گا جو روزمرہ کی گفتگو اور بے ساختہ نکلی ہوئی باتوں سے تعلق رکھتا ہے۔