مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 149 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 149

۱۴۹ مضامین بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کے چہرہ مبارک پر سے چار در ہٹا کر آپ کی پیشانی کو بوسہ دیا تو اس زندگی بھر کے رفیق کی زبان سے بے اختیار یہ الفاظ نکلے۔کہ طبت حيا وميتاً كله يعني ” تو زندہ تھا تو بہترین زندگی کا مالک تھا اور فوت ہوا تو بہترین موت کا وارث بنا۔‘“ کیا کسی اور نبی کے اوصاف میں یہ ہمہ گیر ا فضیلت نظر آتی ہے۔بلکہ میں پوچھتا ہوں کہ کیا کوئی اور نبی ایسا گزرا ہے جس کی زندگی اتنے مختلف پہلوؤں کے مناظر پیش کرتی ہو؟ من كل الوجوه افضلیت یہ اسی ہمہ گیرا فضلیت کا ثمرہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے ایسی کامیابی مقدر کی جس کی مثال کسی اور نبی کی زندگی میں نہیں ملتی۔بے شک خدا کے ازلی رفیق لَا غُلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي ١٨ کے ماتحت ہر نبی ز کے لئے غلبہ مقدر ہوتا ہے مگر غلبہ کے بھی مدارج ہیں اور یقیناً جو غلبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نصیب ہوا اس کے سامنے دوسرے نبیوں کی کامیابی اسی طرح ماند ہے جس طرح سورج کی روشنی کے سامنے دوسرے اجرام سماوی کی روشنی ماند ہوتی ہے۔غرض جس جہت سے بھی دیکھا جائے جن پہلوؤں سے بھی مشاہدہ کیا جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات والا صفات دوسرے رہنمایانِ عالم سے اس طرح ممتاز وفائق نظر آتی ہے جیسے ایک بلند مینا ر آس پاس کی تمام عمارتوں سے ممتاز و بالا ہوتا ہے۔اور آپ کا یہ امتیاز کسی ایک وصف یا کسی ایک شعبۂ زندگی کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ ہمہ گیر اور من کل الوجوہ ہے۔اسی لئے جہاں دوسرے انبیاء مرسلین کی تعریف میں ان کے خاص خاص اوصاف کو چن لیا جاتا ہے وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی تعریف سوائے اس کے اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ :- محمد ہست بُرہان محمد اللهمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ بَارِک وَسَلِّمُ ( مطبوع الفضل ۶ نومبر ۱۹۳۲ء)