مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 117 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 117

112 مضامین بشیر جا سکتا۔دراصل چونکہ شریعت کا یہ منشاء ہے کہ وہ ہر جہت سے انسان کو کامل بنائے اور تمام ان امور کی طرف توجہ کرے جو بالواسطہ یا بلا واسطہ انسان کی اخلاقی اور روحانی ترقی پر اثر پیدا کرتی ہیں۔اس لئے خداوند تعالیٰ نے شریعت میں صرف اصولی باتوں کو ہی داخل نہیں فرمایا بلکہ بعض فروعی امور میں بھی ہدایت جاری کی ہیں اور یہ سب انسان کی روحانی حیات کے لئے کم و بیش ضروری ہیں اور خدا تعالیٰ نے صرف ان باتوں کو شریعت میں داخل کرنے سے احتراز کیا ہے، جو انسان کی اخلاقی اور روحانی ترقی سے اس قدر دُور کا تعلق رکھتی تھیں کہ ان میں دخل انداز ہونا فائدہ کی نسبت نقصان کے زیادہ احتمالات رکھتا تھا۔یا جن کے متعلق انسان اپنے ظاہری علوم کی بناء پر خود طریق ثواب اختیار کر سکتا تھا اور اس لئے ان کے متعلق احکام جاری کرنا بے فائدہ قیود کا پیدا کرنا تھا۔در اصل جیسا کہ عیسائیت بیان کرتی ہے ( گو وہ اس معاملہ میں حد اعتدال سے بہت تجاوز کر گئی ہے ) شریعت کے احکام کے متعلق ایک پہلو نقصان کا بھی ضرور موجود ہے اور وہ یہ کہ شریعت کے احکام کے توڑنے سے انسان مجرم اور گنہگار بن جاتا ہے اور اسی لئے اسلام نے نہایت حکیمانہ طور پر اس معاملہ میں اعتدال کے طریق کو اختیار کیا ہے اور شرعی احکام صرف اس حد تک جاری کئے ہیں کہ جس حد تک بالکل ضروری اور لا بدی تھے اور باقی امور میں انسان کو اس کی عقل خدا داد اور شریعت کے اصولی قیاس پر چھوڑ دیا ہے تا کہ وہ خود اپنے لئے اپنا راستہ بنائے۔یہی وجہ ہے کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں شریعت کو ایک رحمت قرار دیا ہے اور دوسری طرف ایسی قرآن میں خود فرمایا ہے کہ زیادہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں مسئلے نہ پوچھا کرو تا کہ تمہارے لئے تفصیلی احکام نازل ہو کر تنگی کا موجب نہ بنیں۔اب غور طلب بات یہ ہے کہ اگر شریعت سراسر رحمت ہی رحمت ہے تو پھر اس روک کے کیا معنی ہیں؟ کیا نعوذ باللہ خدا اس رحمت کے دائرہ کو ہم پر تنگ کرنا چاہتا ہے کہ اس نے ہمیں شریعت کے احکام کے نزول کے محرک بننے سے روک دیا ہے؟ اس ظاہری تضاد کا یہی حل ہے کہ شریعت بیشک ایک رحمت ہے لیکن شریعت کے ساتھ ایک پہلو عذاب کا بھی ہے اور وہ یہ کہ شریعت کے احکام کو توڑ نا خدا کی ناراضگی کا موجب ہوتا ہے اور اگر بعض تفصیلی امور جوطریق بود و باش اور تمدن وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں ان میں شریعت دخل انداز ہو تو یہ عذاب کا پہلو رحمت کے پہلو سے غالب ہو جاتا ہے یعنی ان کے ماننے میں فائدہ کا پہلو اتنا غالب نہیں ہوتا جتنا ان کے نہ ماننے میں (اگر وہ شریعت کا حصہ بن جائیں ) نقصان کا پہلو غالب ہوتا ہے اور اسی لئے جب شریعت ان تفصیلات کی حد کو پہنچتی ہے تو کمال حکمت سے وہ آگے جانے