مضامین بشیر (جلد 1) — Page 93
۹۳ مضامین بشیر روایت کے اندرونی سیاق و سباق سے پوری موافقت رکھنے والی ہیں اور ان کو ترک کر کے ڈاکٹر صاحب کا دوسری فرضی باتوں میں پڑ جانا جن کو روایت کا سیاق وسباق اور دیگر حالات ہرگز برداشت نہیں کرتے صرف ڈاکٹر صاحب کی اس دلی مہربانی کا ایک کرشمہ ہے جو وہ ہمارے حال پر رکھتے ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔دوسرا پہلو اس روایت کا یہ ہے کہ یہ تسلیم کیا جائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو حضرت والدہ صاحبہ کے ساتھ یہ گفتگو فرمائی تو اس سے آپ کی غرض مشورہ طلب کر نا تھی یعنی آپ کا منشاء یہ تھا کہ حضرت والدہ صاحبہ سے مشورہ حاصل کریں کہ اس معاملہ میں کیا کرنا مناسب ہے۔سواس صورت کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ گوروایت کے الفاظ اور دیگر حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حضرت صاحب کی غرض کوئی باقاعدہ مشورہ حاصل کرنا نہ تھی لیکن اس بات کو امکانی طور پر تسلیم کرتے ہوئے میں یہ عرض کرتا ہوں کہ اگر حضرت صاحب نے مشورہ کے طریق پر ہی یہ گفتگو فرمائی ہو پھر بھی ہرگز اس پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہو سکتا۔اور ڈاکٹر صاحب کا یہ سراسر ظلم ہے کہ انہوں نے مشورہ کی حقیقت اور اس کی غرض و غایت کو سمجھنے کے بغیر یونہی ایک اعتراض جما دیا ہے۔درحقیقت ڈاکٹر صاحب کی یہ ایک سخت غلطی ہے کہ انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ مشورہ کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ بہر صورت قبول کیا جائے۔یعنی جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے مشورہ لیتا ہے تو اس کا یہ فرض ہو جاتا ہے کہ اس مشورہ کے مطابق عملدرآمد کرے۔یہ وہ خطرناک غلطی ہے جو ڈاکٹر صاحب کے اس اعتراض کی اصل بنیاد ہے حالانکہ ہر وہ شخص جو قوانین تمدن اور فن سیاسیات سے آشنا ہے بلکہ ہر وہ شخص جو تھوڑا بہت غور وفکر کا مادہ رکھتا ہے سمجھ سکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا یہ خیال سراسر غلط اور بودا ہے۔مشورہ لینے والے کے لئے ہرگز ہرگز یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وہ بہر صورت مشورہ کو قبول ہی کرے۔قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- شَاوِرُهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلُ عَلَى اللَّهِ ٣٦٠ یعنی اے نبی لوگوں کے ساتھ مشورہ کر لیا کرو۔اور جب مشورہ کے بعد کسی بات پر عزم کر لو تو پھر اللہ پر توکل کرو۔“ اس آیت میں یہ صاف طور پر بتایا گیا ہے کہ مشورہ کی پابندی ضروری نہیں اور مشورہ کے بعد مشورہ لینے والے کو یہ اختیار حاصل ہے کہ جس بات کے متعلق اسے اطمینان اور شرح صدر پیدا ہواس پر قائم ہو جائے۔سیاسیات میں بھی یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ اعلیٰ انتظامی افسران کے ساتھ مشورہ دینے والی مجلسیں ہوتی ہیں۔لیکن ان افسروں کو اختیار ہوتا ہے کہ اگر مفا د ملکی کے ماتحت ضروری خیال کریں