مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 91 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 91

۹۱ مضامین بشیر ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں اس تیسری صورت کو تسلیم کرنے کے باوجود پھر نہایت بے دردی کے ساتھ دوسری فرضی باتوں کو درمیان میں لا کر دل آزار جرح کا طریق اختیار کیا ہے اور محض بلا وجہ انجمن اور خلافت کا جھگڑا شروع کر دیا ہے۔اور بزعم خود حضرت میاں صاحب کی نا قابلیت کو اعتراض کا نشانہ بنا کر اپنے قلب سوزاں کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ ہر عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ خدا پر معاملہ چھوڑنے کے یہ معنی نہیں ہیں کہ فلاں شخص خلیفہ نہ بنے بلکہ اس کا منشاء صرف یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی طرف سے تعیین کا اظہار نہیں کرتے بلکہ معاملہ خدا پر چھوڑتے ہیں۔وہ جسے پسند کرے گا اس کی طرف اپنے تصرف خاص سے لوگوں کے قلوب خود بخود پھیر دے گا۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود اپنی زندگی میں حضرت ابوبکر کی خلافت کے بارے میں متعدد مرتبہ اشارات کرنے کے پھر بالآخر معاملہ خدا پر چھوڑ دیا اور صراحتہ یہ حکم نہیں فرمایا کہ ابوبکر میرے بعد خلیفہ ہوگا۔لیکن خدا کے تصرف خاص نے آپ کے بعد ابو بکر کو ہی خلیفہ بنایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارات پورے ہوئے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے متعدد مرتبہ اس قسم کے اشارات دینے کے با وجود کہ آپ کے بعد معایا کچھ وقفہ سے حضرت میاں صاحب کی خلافت ہو گی۔پھر معاملہ خدا پر ہی چھوڑا اور خدا نے اپنی قدیم سنت کے مطابق اپنے وقت پر حضرت میاں صاحب کی خلافت کو قائم کیا۔پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو سوال حضرت والدہ صاحبہ سے کیا اس سے مراد حضرت والدہ صاحبہ کا امتحان تھا تو اس صورت میں بھی جیسا کہ ڈاکٹر صاحب نے سمجھا ہے اس سے قطعاً یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ کا منشاء یہ تھا کہ حضرت میاں صاحب کی خلافت نہیں ہو گی۔بلکہ اگر کوئی منشاء ثابت ہوتا ہے تو یہ کہ اس معاملہ کو خدا کے تصرف پر چھوڑ نا چاہیئے اور اپنے حکم کے ذریعہ سے اس کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیئے۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے۔اور دراصل خدا پر چھوڑنے میں یہ مصلحت ہوتی ہے کہ فتنہ پیدا کرنے والوں کو اعتراض کا موقع نہ ملے۔اور وہ کام جو خدا کا منشاء ہوتا ہے وہ خود لوگوں کی رائے سے تصفیہ پا جائے۔چنانچہ ایسے موقع پر خدا تعالیٰ لوگوں کے قلوب پر ایسا تصرف کرتا ہے کہ وہ اسی شخص کے حق میں رائے دیتے ہیں جو خدا کی نظر میں اس کا اہل ہوتا ہے۔چنانچہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ خلیفہ خدا بنا تا ہے اس سے یہی مراد ہے کہ گو بظا ہر صورت لوگ خلیفہ کا انتخاب کرتے ہیں لیکن اس انتخاب کے وقت لوگوں کے قلوب خدا کے خاص تصرف کے ماتحت کام کر رہے ہوتے ہیں۔حدیث سے پتہ