مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 89 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 89

۸۹ مضامین بشیر الصحابة يرجعون الى قولها ويستفتونها ۳۴ یعنی بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ ان کے قول کی طرف رجوع کرتے اور ان سے فتویٰ پوچھتے تھے۔دراصل حق یہ ہے کہ سوائے اس کے کہ کسی نبی کی بیوی کوخصوصیت کے ساتھ بلید اور ایک موٹی سمجھ کی عورت سمجھا جائے بالعموم اس کے متعلق یہ ماننا پڑے گا کہ نبی کی لمبی صحبت اور ہر وقت کی تربیت نے اس میں وہ اہلیت پیدا کر دی ہوگی جو بہت سے دوسرے لوگوں میں نہیں پائی جاتی۔اور اس لئے وہ اس بات کی اہل مانی جائے گی کہ مشورہ طلب امور میں اس کی رائے پوچھی جائے۔باقی ڈاکٹر صاحب کا یہ لکھنا کہ : - 66 وو اتنے بڑے عظیم الشان انسان مامور من اللہ کی نسبت یہ گمان کرنا کہ وہ اپنی وفات کے بعد جماعت کی ساری ذمہ داری کو اپنی بیوی کے اشارہ پر بلا سوچے سمجھے بغیر استعداد اور قابلیت پر غور کئے ایک شخص کے ہاتھ میں پکڑا دینے کو تیار تھا حضرت صاحب کی شان پر خطر ناک حملہ ہے۔“ یہ یا تو پرلے درجہ کی جہالت اور یا پرلے درجہ کی بے انصافی اور سینہ زوری ہے۔ڈاکٹر صاحب کی شروع سے ہی یہ افسوس ناک عادت رہی ہے کہ ایک بات اپنی طرف سے فرض کرتے ہیں اور پھر اس پر بڑے فخریہ لہجے میں اعتراض جمانا شروع کر دیتے ہیں۔میں حیران ہوں کہ میں نے یہ کب لکھا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نعوذ باللہ گویا دوزانو ہوکر حضرت والدہ صاحبہ کے سامنے بیٹھ گئے تھے ؟ کہ جو کہو میں اس پر عمل کروں گا۔اور ہر گز استعداد اور قابلیت پر غور نہیں کروں گا۔“ اور نہ کچھ سوچوں گا اور نہ سمجھوں گا بس جس طرح تم اس معاملہ میں مجھے کہو گی اسی طرح کر دوں گا۔بلکہ کہنے کی بھی ضرورت نہیں۔صرف ایک اشارہ کافی ہے۔اور میں تعمیل کے لئے حاضر ہوں اور جس شخص کے متعلق کہو اس کے ہاتھ میں سلسلہ کی باگ ڈوری دینے کے لئے تیار ہوں۔اگر میں نے یہ الفاظ یا اس مفہوم کے کوئی الفاظ یا اس مفہوم سے قریب کی مشابہت رکھنے والے کوئی الفاظ یا اس مفہوم سے دور کی بھی مشابہت رکھنے والے کوئی الفاظ کہے یا لکھے ہوں تو میں مجرم ہوں اور اپنے اس جرم کی ہر جائز سزا بھگتنے کے لئے تیار ہوں۔اور اگر میں نے یہ الفاظ نہیں کہے اور میرا خدا گواہ ہے کہ یہ الفاظ کہنا تو در کنار ان الفاظ کا مفہوم تک بھی میرے دل و دماغ کے کسی دور دراز کونے میں پیدا نہیں ہوا۔اور نہ کسی عقلمند کے دل میں پیدا ہو سکتا ہے۔تو ڈاکٹر صاحب اس خدا سے ڈریں جس کے سامنے وہ ایک دن کھڑے کئے جائیں گے۔اور اپنی ان دل آزار شوخیوں کے متعلق یہ خیال نہ کریں کہ وہ کسی حساب میں نہیں۔خدا کی نظر سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں اور نہ اس کے حساب سے