مضامین بشیر (جلد 1) — Page 59
۵۹ مضامین بشیر رکھتے ہیں اور اس تو ازن اور مقابلہ میں منگل کا دن گو یا سب سے پیچھے ہے کیونکہ وہ شد اند دوختی کا اثر رکھتا ہے ، جیسا کہ حدیث میں بھی مذکور ہے نہ یہ کہ نعوذ بالله منگل کوئی منحوس دن ہے۔پس حتی الوسع اپنے اہم کاموں کی ابتداء کے لئے سب سے زیادہ افضال و برکات کے اوقات کا انتخاب کرنا چاہیئے۔لیکن ایسا بھی نہ ہو کہ اس غرض کو پورا کرنے کے لئے کوئی نقصان برداشت کیا جائے یا کسی ضروری اور اہم کام میں توقف کو راہ دیا جائے۔ہر ایک بات کی ایک حد ہوتی ہے اور حد سے تجاوز کر نے والا انسان نقصان اٹھاتا ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ جو لوگ دنوں وغیرہ کے معاملہ میں ضرورت سے زیادہ خیال رکھتے ہیں ان پر بالآخر تو ہم پرستی غالب آجاتی ہے۔گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی جیسا کہ اشخاص کے معاملہ میں چسپاں ہوتا ہے ویسا ہی دوسرے امور میں بھی صادق آتا ہے۔اور یہ سوال کہ دنوں کی تاثیرات میں تفاوت کیوں اور کس وجہ سے ہے، یہ ایک علمی سوال ہے جس کے اٹھانے کی اس جگہ ضرورت نہیں۔“ میرا یہ نوٹ ہر عقل مند اور سعید الفطرت انسان کی تسلی کے لئے کافی ہونا چاہیئے کیونکہ علاوہ اس کے کہ اس میں اصولی طور پر گو مختصر ا ڈاکٹر صاحب کے اعتراض کا جواب آ گیا ہے۔اور روایت مذکورۃ الصدر کے متعلق جس غلط فہمی کے پیدا ہونے کا احتمال تھا اس کا ازالہ کر دیا گیا ہے۔یہ نوٹ اس وقت کا ہے جبکہ ابھی ڈاکٹر صاحب کا تنقیدی مضمون معرض تحریر میں بھی نہیں آیا تھا بلکہ غالباً ابھی ڈاکٹر صاحب موصوف نے سیرۃ المہدی حصہ اول کا مطالعہ بھی نہیں فرمایا ہوگا۔اندریں حالات اگر میں صرف اسی جواب پر بس کروں تو قابل اعتراض نہیں سمجھا جا سکتا۔لیکن چونکہ یہ ایک علمی سوال ہے اور ڈاکٹر صاحب نے اس روایت کے متعلق ضمنی طور پر بعض ایسے اعتراضات کئے ہیں جن کا جواب علم دوست احباب کی دلچسپی اور بعض نا واقف لوگوں کی تنویر کا باعث ہوسکتا ہے۔اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب کی تنقید کا کسی قدر تفصیل کے - 66 ساتھ جواب عرض کروں۔وما توفيقى الا بالله اب میں ان تفصیلی اعتراضات کو لیتا ہوں جو ڈا کٹر بشارت احمد صاحب نے اپنے مضمون میں منگل والی روایت کے متعلق بیان کئے ہیں۔سب سے پہلا اعتراض ڈاکٹر صاحب کا یہ ہے کہ : - حضرت والدہ صاحبہ اپنا خیال پیش کرتی ہیں کہ حضرت صاحب منگل کے دن کو : مطبوعه الفضل ۲۲ جولائی ۱۹۲۶ء