مضامین بشیر (جلد 1) — Page 550
مضامین بشیر موسیقی کے متعلق صحیح زاویہ نظر اور میرے ایک مضمون کے متعلق غلط انہی کا ازالہ ایک نامہ نگار کا مضمون الفضل مورخہ ۲ نومبر ۴۳ ء میں مبارک احمد خاں صاحب پسر محترمی ماسٹر عبدالعزیز خاں صاحب مالک طبیہ عجائب گھر کا ایک مضمون فن موسیقی کے مطابق گانا سننے کے متعلق شائع ہوا ہے۔جس میں نوجوان نامہ نگار نے اس اہم مضمون کے متعلق بہت سے مفید حوالہ جات جمع کرنے کے علاوہ جماعت احمدیہ کے مفتی کا فتوی بھی شائع کیا ہے۔مضمون یقیناً اخلاص اور محنت اور کوشش کے ساتھ لکھا گیا ہے جس میں بعض احادیث اور بہت سے گذشتہ صلحاء کے حوالے درج کرنے کے علاوہ حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ کے بعض خطبات کے اقتباسات بھی شامل کئے گئے ہیں اور بالآخر جماعت احمدیہ کے مفتی حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کا ایک فتویٰ درج کر کے بتایا گیا ہے کہ : - آلات موسیقی کے ساتھ گانا سننا ممنوع ہے خواہ مرد کا ہو یا عورت کا اور آلات خواہ پرانے ہوں یا جدید۔اور خواہ گانا اپنی ذات میں بُرے مضمون پر مشتمل ہو یا اچھے پر 66 ظاہر ہے کہ جو مضمون احادیث نبوی اور ارشاد حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ اور فتاویٰ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی مہر کے ساتھ شائع ہو۔اس کی صحت میں کسی شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔سوائے اس کے کہ کسی شخص کو اس استدلال پر اعتراض ہو جو پیش کردہ حوالوں سے کیا گیا ہو یا ان معنوں سے اختلاف ہو جو درج کردہ حوالوں سے نکالے جاتے ہوں یا کوئی شخص بعض ایسے حوالے پیش کرسکتا ہو جو ان پیش کر دہ حوالوں کو نا قابل استدلال قرار دیتے ہوں اور حق یہ ہے کہ میں مخلص نامہ نگار کی