مضامین بشیر (جلد 1) — Page 479
۴۷۹ مضامین بشیر نصف کا اصول اسی صورت میں چل سکتا ہے کہ زنا کی سزا کو صرف کوڑوں تک محدود سمجھا جائے۔ساتواں سوال ہفتم : مندرجہ بالا وجوہات کی بناء پر کئی اسلامی علماء کو بھی رجم کی سزا کے متعلق شبہات پیدا ہوئے ہیں۔چنانچہ بعض نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ چونکہ قرآن شریف رجم کا حکم نہیں دیتا بلکہ صرف کوڑوں کی سزا کا حکم دیتا ہے اس لئے بیشک حدیث کے ماتحت شادی شدہ زانی کو رجم کیا جائے مگر احتیاطاً قرآنی حکم کے ماتحت اسے کوڑے بھی لگا دینے چاہئیں۔چنانچہ بعض علماء کا فتویٰ ہے کہ پہلے کوڑے لگائے جائیں اور بعد میں رجم کیا جائے اور بعض کہتے ہیں کہ پہلے رجم کیا جائے اور بعد میں مقتول کی نعش کو کوڑے مارے جائیں۔اس سے اس مسئلہ میں علماء کی پریشانی ظاہر وعیاں ہے۔رجم کی تائید میں دلائل ان دلائل اور اسی قسم کے دوسرے دلائل سے رجم کی سزا کے متعلق حقیقی شبہ پیدا ہوتا ہے مگر اس کے مقابل پر رحم کے حکم کی تائید میں بھی بعض وزنی دلائل ہیں مثلاً پہلی دلیل اول : رجم ان مسائل میں سے ہے جو عمل سے تعلق رکھتے ہیں۔اس لئے اس میں سب سے زیادہ وزن مسلمانوں کے تعامل کو دیا جائے گا۔اور خصوصاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے خلفائے راشدین کے عمل کو اور جب ہم عمل کو دیکھتے ہیں تو تاریخ سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ نہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بلکہ خلفائے راشدین کے زمانہ میں بھی شادی شدہ زانیوں کو رجم کی سزا دی جاتی رہی ہے۔اگر یہ مثالیں صرف ابتدائی زمانہ تک محدود ہو تیں تو یہ خیال کیا جا سکتا تھا کہ شائد یہ طریق قبل نزول سوره نور سابقہ شریعت کی اتباع میں جاری تھا اور بعد میں منسوخ ہو گیا لیکن جب کہ خلفائے راشدین کے زمانہ میں بھی رجم کی سزا دی گئی ہے تو لا محالہ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ رجم ایک مستقل اسلامی حکم ہے جس پر ہر زمانہ میں عمل ہوتا رہا ہے۔دوسری دلیل دوم : اگر سورہ نور میں رجم کی سزا کا حکم بیان نہیں ہوا تو اس سے اصل مسئلہ پر چنداں اثر نہیں پڑتا کیونکہ سورۂ نور بے شک حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قصہ میں نازل ہوئی مگر چونکہ حضرت