میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 46
36 کے رہنے والے تھے مجھے بلانے کو بھیجا۔انہوں نے مجھے آمدہ فتنہ کے بارے میں بتایا اور یہ کہ اس کے انسداد کے لئے ہمیں کچھ کرنا چاہئے۔میں نے کہا کہ بجائے اس کے کہ وہ مجھے وہاں بلائیں یہاں میرے پاس آجائیں تو خدا کے فضل سے امن کا راستہ نکل سکتا ہے۔وہ واپس گئے اور اپنے ہمراہ سب کو میرے پاس لے آئے۔میں نے کہا کہ اگر آپ دل سے اس بات کا اقرار کریں کہ اس معاملہ میں اگر ہمیں جانیں بھی دینا پڑیں تو اکٹھے دیں گے تو خدا کے فضل سے سکھوں کا جھٹکا بند کرا سکتا ہوں۔ان سب معززین نے میرے سامنے قسمیں کھائیں کہ ہم آخری وقت تک آپ کے ساتھ تعاون کریں گے۔پس میں نے کہا پرسوں اتوار ہے آپ سب صبح ہی میرے پاس تشریف لے آئیں پھر میں آپ کو اپنا پروگرام بتاؤں گا۔وہ سب چلے گئے اور بعد میں میرے پاس آنا جانا شروع کر دیا۔ہمارا پہلا کیمپ کمانڈر بدل چکا تھا۔نئے کیمپ کمانڈر صاحب نہایت شریف آدمی تھے۔ان کا اردلی ایک بنگالی لڑکا تھا جو میرے پاس اردو پڑھنے کے واسطے آیا کرتا تھا۔میں نے اسے کہا کہ کسی وقت مجھے اپنے صاحب سے ملاؤ۔اس نے کہا کہ بہت اچھا آج چھٹی کے بعد بارہ بجے تشریف لے آنا۔میں بارہ بجے وہاں پہنچ گیا۔اس نے میرا اپنے صاحب سے تعارف کروایا کہ یہ مولوی صاحب ہیں اور جناب سے کچھ درخواست کرنے کے لئے آئے ہیں۔صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ کیا کام ہے؟ میں نے کہا کہ صاحب ہم سب لوگ آپ کی رعایا ہیں اور سب گھر بار چھوڑ کر حکومت کی حفاظت کی خاطر جان دینے آئے ہوئے ہیں۔ایک ہفتہ تک ہمارا بڑا دن یعنی عید الضحی ہے۔ہم لوگ اس دن اپنے گھروں میں گائے کی قربانی دیتے ہیں مگر اس جگہ نہیں دے سکتے اگر آپ اجازت دیں تو ہم عید کے دن گا۔نرید کر قربانی دے لیں گے۔صاحب یہ سن کر بہت خوش ہوا اور اپنی ران پر ہاتھ مار کر انگریزی میں کہنے لگا کہ ران کا نصف سیر گوشت