میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 40 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 40

30 مخالفین اسلام کے منصوبے خاک میں ملتے ہوئے بتائے۔غرضیکہ فتح مکہ تک کا ذکر کیا۔سب لوگ تقریر سن کر بہت خوش ہوئے اور دعا پر جلسہ برخاست ہوا۔جہاز کے سارنگ نے بتایا کہ ہم جتنے مایوس ہوئے تھے اس سے بڑھ کر ہمیں خوشی ہوئی ہے اور ساتھ ہی میرے بار بار انکار کے باجود اس نے زبر دستی کچھ نذرانہ میری جیب میں ڈال دیا۔اس کے بعد دوسرے لوگوں نے بھی مصافحہ کرتے ہوئے نذرانہ پیش کیا۔بعدہ ہمیں وہ لوگ کنارے پر چھوڑ گئے۔نذرانہ کی کل رقم ساٹھ روپے کے قریب بنی۔بنگال میں مولود شریف کا بہت رواج ہے۔بڑی خوشنما مجلس قائم کی جاتی ہے۔خوشبو اور صفائی کا خاص انتظام کیا جاتا ہے۔جگہ کو دلہن کی طرح سجایا جاتا ہے۔مذکورہ مولود شریف میں مچھلی و دال کے علاوہ ۴۰ مرغیاں پکائی گئی تھیں۔وہ اپنے آڑے کاموں کو درست کرنے کے لئے مولود شریف کی منت مانتے ہیں اور پھر اسے پورا کرتے ہیں۔جب اس جہاز کے لوگ سہارنپور کے بڑے مولوی بصرہ میں پہلا مناظرہ صاحب سے ملے اور میرا ذکر بھی کیا کہ انہوں نے آکر مولود شریف پڑھایا اور قرآن کریم کا وعظ کیا اور لوگ سن کر بہت خوش ہوئے تو مولوی صاحب نے ایک احمدی کی یہ تعریف سن کر سخت تیوری چڑھائی اور ان لوگوں سے جنہوں نے پہلے بھی میری باتیں اور گفتگو سنی ہوئی تھی ان کو مولوی صاحب نے مناظرہ کا چیلنج دے دیا۔ہمارے ایک احمدی دوست نے چیلنج منظور کر لیا اور اتوار کا دن مقرر ہو گیا۔میں بھی وقت مقررہ پر پہنچ گیا وہاں صرف ایک دو احمدی ڈاکٹر صوبیدار محمد یعقوب خان صاحب اور میجر نورالدین صاحب تھے۔باقی سب احمدیوں کو اطلاع دے کر بلوایا گیا۔حیات و ممات مسیح پر عاجز سے بحث ہوئی۔غیر احمدیوں میں یہ چرچا ہو گیا کہ احمدی مولوی بہت آیتیں پڑھتا ہے اور ہمارا مولوی " رفع " پر ہی