میری یادیں (حصّہ اوّل)

by Other Authors

Page 34 of 276

میری یادیں (حصّہ اوّل) — Page 34

28 سوال پر یہ جواب دیا کہ تم چونکہ درود شریف پڑھا کرتے ہو اس لئے یہ دوسرے بزرگ حضرت سید عبد القادر صاحب جیلانی آپ کے پاس تشریف لائے ہیں یہ سن کر میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی اور میں نے آگے بڑھ کر حضور کا ہاتھ چومنے کی کوشش کی تو آپ نے ہاتھ نہ دیا اور فرمایا کہ اب میرا زمانہ نہیں ہے۔میں نے پوچھا حضور پھر کس کا زمانہ ہے؟ حضور نے فرمایا آؤ میرے ساتھ چلو تمہیں بتا دوں۔میں ساتھ چل پڑا تو حضور مجھے آپ کے پاس لے آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر آپ کے ہاتھ میں دے دیا اور خود غائب ہو گئے۔پھر میری آنکھ کھل گئی۔اور اب میں آپ کے پاس آگیا ہوں۔میں نے کہا بہت اچھا اب آپ آرام کریں صبح انشاء اللہ تعالی میں آپ کو بتا دوں گا کہ اب کس کا زمانہ ہے۔صبح کی نماز کے بعد وہ پھر آگئے۔میں نے انہیں بتایا کہ اب حضرت مسیح موعود کا زمانہ ہے اور اب ان کے دوسرے خلیفہ آجکل قادیان میں ہیں۔آپ ان کی بیعت میں شامل ہو جائیں آپ کو ایک بزرگ ہستی خود تشریف لا کر تبلیغ کر گئی ہے۔اس شخص نے بخوشی بیعت کرلی اور اپنا بستر بھی میرے پاس اٹھا لائے۔مجھے بھی بڑی خوشی ہوئی کہ الحمد للہ اللہ تعالی نے مجھے اکیلے نہیں چھوڑا۔اس کے بعد چند قرآن کریم سیکھنے والے نوجوان مل گئے جن کی تعداد بارہ کے قریب تھی۔میں نے قادیان سے قاعدہ يسرنا القرآن منگوا لئے اور پڑھانے شروع کر دیئے۔سب نے خدا تعالٰی کے فضل سے تمام قرآن کریم مکمل کیا۔سب کے نام میرے پاس محفوظ تھے مگر سب کچھ قادیان میں ہی رہ گیا چند نام یاد رہ گئے ہیں۔(1) محمد شریف فیروز پوری (۲) تقو امرتسری (۳) بابا عبداللہ سیالکوئی (۴) محمد جعفر بیگ لاہوری (۵) عبد المجید دهلوی (۱) فضل کریم پٹھانکوٹی وغیرہ وغیرہ۔مخالفین نے کئی آدمیوں سے تبادلہ خیالات کرایا اور ناکام رہے پھر حملہ کروا کے مردانا چاہا مگر میرے شاگردوں نے بار بار بلند آواز سے یہ اعلان کیا